اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 119 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 119

119 ادائیگی کے وقت عملی تصویر کے رنگ میں اس کا اظہار منظر عام پر آتا تھا۔قرآن مجید سے آپ کو عشق تھا۔ہر عمل سے پیشتر احکام الہی ان کے مد نظر رہتے تھے۔نمازیں نہایت خشوع اور خضوع سے ادا فرماتے تھے۔تلاوت قرآن مجید نہایت سوز اور محبت سے فرماتے تھے۔آپ کی تبلیغ دل پر گہرا اثر کرتی تھی۔کلام انکسار حلیمی اور ہمدردی سے فرماتے تھے۔شعائر اسلام کا بہت احترام کرتے تھے۔احمدیت کی اشاعت کا آپ کی طبیعت میں خاص جوش تھا۔نو جوانوں سے بڑھ کر سرگرم رہتے تھے مرکز کی ہدایات کو پوری طرح عملی جامہ پہناتے تھے۔مہمان نوازی آپ کی طبیعت کا خاصہ تھا۔آپ ہمیشہ علاقہ کے امیر جماعت رہے اکثر مہمان آپ کے پاس آتے رہتے تھے آپ کبھی مہمانوں کی خدمت سے نہ تھکتے تھے۔نہایت اخلاص اور محبت شوق اور بشاشت سے خاطر و مدارات فرماتے تھے۔آپ کی صحبت میں طبیعت پر بہت نیک اثر پیدا ہوتا تھا۔قوت عمل میں جوش اور طاقت پیدا ہوتی تھی۔آپ نے حضرت مسیح موعود حضرت خلیفہ مسیح اول حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نیز دوسرے بزرگان دین سے کثرت سے روحانی فیوض جذب کئے۔اور بطریق احسن لوگوں تک پہنچائے۔آپ بیان کرتے تھے کہ ایک روز حضرت اقدس مسیح موعود کی خدمت بابرکت میں حاضر تھا۔کہ میرے تمام جسم سے دھواں نکلنا شروع ہو گیا۔اور دھواں آسمان کی طرف ایسے جاتا دکھائی دیا کہ جیسے کسی بھٹہ کی چمنی سے نکل کر بادل کی طرح جارہا ہو۔تاحد نگاہ یہ دھواں اوپر جا تا نظر آتا تھا۔میں حیران تھا آیا میرے جسم میں آگ لگ گئی ہے۔اتنا دھواں کہاں سے نکل رہا ہے۔یہ کیفیت کافی دیر تک جاری رہی۔آخر دھواں ختم ہو گیا۔اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ قلب بالکل صاف ہو گیا ہے۔اور دھویا گیا ہے۔اور روح کو بالکل تسکین ہوگئی۔ایک نئی زندگی محسوس ہونے لگی اس کے بعد کبھی میرے دل میں کوئی گناہ کا خیال ہی پید نہیں ہوا نیک جذبات کا جوش دل میں کثرت سے پیدا ہونا شروع ہو گیا۔نیک کاموں میں لذت اور کشش محسوس ہونے لگی۔اور تیزی سے اعمال صالحہ بجالانے کی ایک خاص طاقت پیدا ہوگئی۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک تاثیر نفس کا اثر تھا جو مجھے پاک کر گیا۔حاجی صاحب میں ایک جوش اور درد تھا کہ جس چشمہ رواں سے آپ فیض یاب ہوئے ہیں سب لوگ اس میں حصہ دار بنیں۔اور نئی روحانی زندگی انہیں حاصل ہو۔اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے دروازے ان پر آپ کی روایات میں (جو کتاب کے آخر میں درج کی گئی ہیں) بہت اختصار سے اس واقعہ کا ذکر ہے۔کھلیں۔اس جوش اور کوشش میں انہوں نے اپنے نفع نقصان کی کبھی پرواہ نہیں کی ان کی زندگی میں ہمارے علاقہ جالندھر و ہوشیار پور میں تبلیغ کا ایک خاص جوش تھا کہیں مناظرات ہورہے ہیں۔کہیں جلسے ہورہے ہیں جگہ جگہ