اصحاب احمد (جلد 10) — Page 118
118 کے سینے کو نور ایمان سے منور فرمایا ہوا ہے۔اور سلسلہ کے لئے ہر قسم کی مالی ( و ) جانی قربانی میں پیش پیش رہتے ہیں اور سلسلہ کی اغراض کی تکمیل کے لئے آپ شبانہ روز مصروف رہتے ہیں۔نیز اس غرض کے لئے آپ ضلع جالندھر اور ہوشیار پور میں لمبے لمبے دورے کرتے رہتے ہیں۔باوجود بڑھاپے کے میلوں پیدل چلنے سے نہیں گھبراتے۔ارتداد ملکانہ کے زمانہ میں آپ نے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔اور اسی طرح مکیریاں ضلع ہوشیار پور کے مشن میں ایک لمبا عرصہ کام فرمایا۔اس سلسلہ میں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خوشنودی کے سرٹیفکیٹ بھی حاصل کئے آپ گذشتہ ایام میں بیمار ہو گئے تھے احباب نے بکثرت آپ کے لئے دعائیں کیں بیماری سے اٹھنے پر باوجود نقاہت مجلس مشاورت میں تشریف لے آئے۔احباب ایسے بزرگ کی درازی عمر کے لئے دعا فرماتے رہیں“ (38)۔تاثرات وکیل المال صاحب: حضرت چوہدری برکت علی خانصاحب وکیل المال نے تحریر فرمایا کہ:۔اکثر احباب کو یاد ہوگا کہ حضرت حاجی صاحب۔۔۔۔۔علاقہ تحصیل نواں شہر و تحصیل گڑھ شنکر کی احمد یہ جماعتوں میں تبلیغی۔تربیتی وغیرہ اور ہر قسم کے کام کے لئے دورہ کرتے رہتے اور آپ کے گھر علاقہ کے احمدی اور مرکز سے آنیوالے مبلغ کریام میں رہتے اور ان کے ساتھ ہوکر علاقہ کا دورہ کرتے اور ہر ایک کے مناسب حال نہایت خندہ پیشانی سے مہمان نوازی میں مسرور رہتے۔غرض صاحب موصوف کی ساری زندگی گھر یلو کاروبار سے آزاد ہوکر خدمت اسلام اور خدمت احمدیت کے لئے عملاً وقف تھی۔یہی وجہ ہے کہ علاقہ کی جماعتیں ان کو ”سید القوم کے پاکیزہ خطاب سے یاد کرتی تھیں۔‘ (39) تاثرات چوہدری غلام مرتضی خانصاحب : - اخویم چوہدری غلام مرتضی خا صاحب کمری (ضلع تھر پارکر سندھ) سے تحریر فرماتے ہیں کہ بندہ کو ۱۹۲۹ء میں اللہ تعالیٰ نے بیعت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اس کے بعد حضرت حاجی غلام احمد صاحب کے ساتھ میرے قریب کے تعلقات رہے۔ان کی ذات مبارک کے متعلق دل پر گہرا اثر ہے اور ان کا نمونہ ہمارے لئے ہمیشہ مشعل راہ رہا ہے جب کبھی بھی کسی مجلس میں جماعت کے بزرگوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔میں حضرت حاجی صاحب کا ذکر خیر ضرور کرتا ہوں جو سامعین کی روحانی ترقی کا باعث بنتا ہے۔اور اکثر اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی ترقی مدارج کے متعلق درد دل سے دعا کی توفیق ملتی ہے۔آپ کے قلب صافی میں حضرت مسیح موعود کا روحانی عکس بڑی شان سے جلوہ گر تھا۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی۔