اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 98 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 98

98 حسب دستور سابق بیرون قصبہ تک الوداع کہنے کے لئے تشریف لے گئے۔قادیان کے قریباً تمام احمدی احباب ساتھ تھے۔حضور نے تقریر فرمائی اور سب کو مصافحہ کا موقع دیکر رخصت کیا۔وفد کے ان اکیس احباب میں آپ شامل تھے۔(الفضل ۲۵/۶/۲۳ صفحه ۱ ) آپ نے تین ماہ تک بفضلہ تعالیٰ وہاں کامیاب طور پر تبلیغ کا کام کیا۔آپ کو غالبا ضلع متھرا میں موضع نو گاؤں میں متعین کیا گیا تھا۔فتنہ احرار کے زمانہ میں مرکز نے علاقہ مکیریاں میں تبلیغ کی مہم شروع کی۔آپ نے بھی ۱۹۲۵ء و ۱۹۲۶ء میں ایک ایک ماہ وقف کیا۔پہلے سال موضع عمرا پور میں اور دوسرے سال خاص مکیریاں میں کام کیا۔تبلیغ پر جانے سے قبل آپ نے خواب دیکھا کہ آپ ہاتھی پر سوار ہو کر جارہے ہیں۔بعد بیداری آپ کو خوف ہوا کہ اس کی تعبیر طاعون نہ ہو۔لیکن دوسرے روز سید نا حضرت خلیفہ مسیح اثنی ایدہ اللہ تعالیٰ کا تار موصول ہوا کہ آپ کو علاقہ مکیریاں میں تبلیغ کے لئے امیر المجاہدین مقرر کیا جاتا ہے۔اس پر آپ نے سمجھا کہ خواب کی یہ تعبیر تھی کہ گویا ایک اعزاز حاصل ہوگا۔دیہاتی مبلغین علاقہ میں پھیلائے گئے تھے۔اب وہ آپ کی زیر ہدایت کام کرتے تھے۔اور آپ تبلیغ کی روئیداد مرکز کو بھجواتے تھے۔مرکز کی طرف سے حسن کارکردگی کے باعث آپ کو خوشنودی کی سندات بھی عطا کی گئی تھیں۔آپ کے گاؤں میں ۱۹۲۶ء میں ایک امریکن پادری آیا۔اس نے یہ اظہار کیا کہ گویا مقدس کتاب انجیل میں عیسی کو خدا کا بیٹا کہا گیا ہے۔حضرت حاجی صاحب نے اس سے کئی گھنٹے مباحثہ کیا اور ۱۸۷۵ء اور ۱۹۲۶ء کی مطبوعہ انا جیل دکھا کر ان کا تحریف و تبدل ظاہر کر کے بتایا کہ یہ قابل اعتبار نہیں۔پادری حیران و ششدر رہ گیا۔اور کہنے لگا کہ یہ باتیں میں نے پہلی بارسنی ہیں۔اور اس نے مشہور مناظر پادری عبدالحق وغیرہ کو بلوالیا۔اور بمقام بنگہ مکرم مولوی غلام احمد صاحب بد و ملہوی وغیرہ سے مناظرہ ہوا حاجی صاحب نے صدر کے فرائض سرانجام دیئے۔سامعین کا کہنا تھا کہ احمدی مناظرین کے ٹھوس دلائل کے مقابلہ میں عیسائی مناظرین بے بس ہو گئے ہیں۔(۵) بھرتی میں امداد :۔سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ٹیریٹوریل میں احباب کے بھرتی ہونے کو بعض اہم فوائد کے پیش نظر بہت قابل توجہ قرار دیا تھا۔ایک احمد یہ کمپنی کا قیام عمل میں آیا تھا جو کہ بعد میں سی کمپنی ۱۱/۱۵ پنجاب رجمنٹ کے نام سے موسوم ہوئی تھی۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب بھرتی کے لئے دورہ بھی کرتے تھے۔حاجی صاحب کی شادی جنوری ۱۹۲۳ء میں ہونے والی تھی کہ حضرت ممدوح کا تار موصول ہوا