اصحاب احمد (جلد 10) — Page 97
97 از میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تحریک کے مطابق احباب سے سال میں ایک ایک نیا احمدی بنانے کا وعدہ بھی لیتے تھے۔ہو آپ نے پا پیادہ گردو نواح کے علاقہ میں تبلیغ کی۔اور آپ کو قصبہ راہوں کے چوہدری فیروز خاں صاحب اور کا ٹھگڑھ کے مولوی عبدالسلام صاحب جیسے رفقاء کار بھی مل گئے۔ان بزرگوں نے اشاعت حق واعلائے کلمتہ اللہ کے لئے دیوانہ وار کام کئے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ارد گرد کے علاقہ میں تحصیل ہائے نواں شہر و گڑھ شنکر میں حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک میں ہی کر یام، راہوں، کاٹھ گڑھ ،سڑوعہ لنگڑ وعہ، کریم پور، بنگہ ، پنام۔مکند پور۔بکھلور۔اور لکیری وغیرہ مقامات پر جماعتیں قائم ہوگئیں۔کئی کروڑ راجپوتوں کے ارتداد کا منصوبہ اعداء اسلام نے بنایا تھا۔اور ان کی یلغاروں کی بروقت اور مناسب طریق سے مدافعت حضرت محمود ایدہ اللہ الودود کی سرکردگی میں آپ کی افواج قاہرہ نے کی۔اس کی تفصیل گذشتہ جلدوں میں آچکی ہے۔الفضل مورخہ ۴/۶/۲۳ میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ دوسری سہ ماہی میں جانے والے افراد۱۵ جون تک قادیان پہنچ جائیں۔ان میں حضرت حاجی صاحب کا اسم گرامی بھی شامل تھا۔(صفحہ ۱۱) یہ حکم آپ کو ایسے وقت میں پہنچا جبکہ آپ کے ایک عزیز کی شادی چند دن تک ہونے والی تھی لیکن آپ نے اپنے اقارب کے اصرار کی پرواہ نہ کی بلکہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے قادیان حاضر ہو گئے۔دوسری سہ ماہی کا پہلا وفد ۲۰ جون کو بعد نماز عصر روانہ ہوا۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی مؤقر الحکم نے راجپوت نو مسلموں میں خصوصی تبلیغ کے متعلق بعض احباب کی تحریک کی تائید کی اور پورے زور سے اس بارہ میں تحریک کر کے پانچصد روپیہ مہیا کرنے کی ترغیب دلائی۔اور پھر لکھا کہ حاجی صاحب نے خود بھی رقم دی اور دیگر افراد سے بھی روپیہ جمع کر کے دیا۔حضرت خلیفہ اول نے اس تحریک کے تعلق میں نومسلموں میں ٹریکٹ شائع کرنے کا انتظام فرمایا۔(28) نظارت دعوۃ و تبلیغ کی رپورٹ میں مرقوم ہے کہ جماعت کریام نے تمام ضلع جالندھر میں اور قریب کے پانچ دیہات میں سیرت النبی کے جلسوں کا انتظام کیا۔امیر صاحب نے مبلغ کی معیت میں تمام ضلع کا دورہ کیا۔تیرہ احباب نے سال میں کم از کم ایک احمدی بنانے کا وعدہ کیا تبلیغی رپورٹیں باقاعدگی سے آتی رہیں (29) سالانہ رپورٹ صدا نجمن احمد یہ بابت ۴۳ ۱۹۴۲ ء میں آپ کا نام نظارت دعوۃ وتبلیغ کے آنریری کارکنان ومبلغین میں مرقوم ہے ایسے افراد گنتی کے چند ایک ہی ہیں (30)