اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 96 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 96

96 بنیا در دکھنے کے لئے بذریعہ تار درخواست کی گئی۔حضور نے جواب دیا کہ میں کتاب حقیقۃ النبوة“ کی تصنیف میں مصروف ہوں۔حاجی صاحب خود ہی بنیادرکھدیں۔میں دعا کر دیتا ہوں۔چنانچہ حاجی صاحب نے بنیا درکھی اخراجات تعمیر کا اکثر حصہ آپ ہی نے برداشت کیا۔اور اسی سال مسجد مکمل ہوگئی۔(۳) احمد یہ سکول کا اجراء : احمدی بچوں کی تعلیم وتربیت کے مدنظر آپ نے ایک احمد یہ سکول کی ضرورت محسوس کر کے ۳ جون ۱۹۱۶ ء سے اسے اپنے گاؤں میں جاری کیا۔بعد ازاں اس کے لئے ایک موزوں عمارت تیار کروالی گئی۔شروع میں اس کے جملہ اخراجات جو اساتذہ کے مشاہرہ اور دیگر ضروریات پر مشتمل تھے، خود برداشت کرتے تھے۔بعد میں سرکار کی طرف سے پرائمری تک اس کی منظوری لے کر گرانٹ حاصل کر لی گئی۔اور پھر صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے بھی کچھ رقم بطور امداد ملنے لگی۔پھر بھی اگر کبھی گرانٹ بند ہو جاتی تو آپ ہی مدرسہ کے اخراجات برداشت کرتے۔آپ اس کے مینیجر تھے اس کی پوری طرح نگرانی کرتے تھے بعض اوقات خود بھی طلباء کو سبق دیتے۔اور سالانہ امتحانات کے مواقع پر افسر متعلقہ کے ساتھ رہ کر خود معائنہ کراتے اور افسر کے کھانے کا انتظام فرماتے۔اور معائنہ کے اختتام پر اپنے باغ سے پھل منگوا کر تقسیم فرماتے۔افسران کی ہدایات پر پوری طرح عمل کرواتے۔بعض اوقات کوئی استاد غیر حاضر ہوتا تو اس کی جگہ پڑھاتے یا اچانک کسی جماعت کا امتحان لیتے اور افسران بھی آپ کی حسن کارکردگی اور دلچسپی کو بنظر استحسان دیکھتے جو کہ ان کے نوشتہ ریمارکس سے ظاہر ہوتا۔(۴) تبلیغ میں انہماک :۔آپ نے جماعت کر یام کو دس حصوں میں تقسیم کر کے ان کے امیر وفد مقرر کر دیے تھے۔ہر گروہ ہفتہ میں ایک دن تبلیغ کے لئے آپ سے ہدایات حاصل کر کے اور لٹریچر لے کر جاتا۔حلقه تبلیغ اردگرد کا پانچ میل تک کا علاقہ تھا۔واپسی پر روئید ادسنی جاتی۔اور اس سے مرکز کو بھی آگاہ رکھا جاتا۔علاوہ حضرت حاجی صاحب کی ہبہ کردہ اراضی کے تعلق میں صدر انجمن قادیان کے بعض نمائندے چند ماہ قبل موضع کر یام گئے تھے۔وہ اس مسجد کی بہت تعریف کرتے ہیں۔رپورٹ مشاورت بابت ۱۹۲۷ء میں مندرجہ ذیل رپورٹ نظارت تعلیم وتربیت میں مرقوم ہے کہ کریام کا مدرسہ بھی ان مدارس میں سے ہے جس کا انتظام وغیرہ مقامی جماعت کرتی ہے صرف عمومی نگرانی نظارت کرتی ہے۔(صفہ۸۶)