ارضِ بلال — Page 89
ارض بلال۔میری یادیں ان دنوں میں گیمبیا اور سینیگال کے بارڈر پر مکرم محمد جوب صاحب سینی گال پولیس کے انچارج تھے۔میرے ان کے ساتھ بہت اچھے مراسم تھے۔وہ حضور انور کی فرافینی آمد پر منعقد ہونے والے جلسہ میں بھی شریک ہوئے اور حضور انور کے قریب ہی بیٹھے ہوئے تھے۔وہ حضور انور کے خطاب اور شخصیت سے کافی متاثر تھے۔غور ” جب گیمبیا سے تشریف لے گئے۔اس کے بعد ایک روز میں نے سینیگال جانے کا پروگرام بنایا۔یادر ہے میرے پاس سینیگال کا ویزہ نہیں تھا اور نہ ہی سینیگال گورنمنٹ آرام سے پاکستانیوں کو ویزہ دیا کرتی تھی۔اس لئے بارڈر پر موجود پولیس افسران کی مہربانی اور دوستانہ تعلقات کی بنا پر میں سینیگال چلا جایا کرتا تھا۔اور لگا تار دو دو ہفتے ادھر ہی رہتا تھا تا کہ بار بار پولیس کا سامنا نہ ہو۔اکثر یہ سفر موٹرسائیکل پر ہی ہوتا تھا اور رات شہروں کی بجائے دیہاتوں میں ہی گزارتا تھا۔جب میں بارڈر پر پہنچا اور میں ڈیوٹی پر پولیس افسران سے بات چیت کر رہا تھا، مسٹر جوب اس وقت اپنے کمرے میں تھے۔اس نے اپنے اہل کار کو اشارہ کیا کہ مجھے اس کے پاس دفتر میں بھیج دو۔پولیس مین کے کہنے پر میں جوب صاحب کے کمرے میں چلا گیا۔علیک سلیک کے بعد مجھے کہنے لگا ، استاذ ، مجھے افسوس ہے کہ آپ سینیگال نہیں جاسکتے اور ساتھ ہی اس نے مجھے بتایا کہ وزارت داخلہ کی طرف سے مجھے حکم ملا ہے کہ فرافینی سے جو احمدی مبلغ سینیگال آتا ہے اس کو سینیگال میں داخل ہونے سے روک دیا جائے۔میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔(پھر چند سال بعد اس نے مجھے بتایا کہ کولخ کے تیجانی فرقہ کے خلیفہ صاحب نے وزارت داخلہ میں شکایت کی تھی جس پر یہ حکم نامہ جاری ہوا تھا)۔مسٹر جوب نے ساتھ ہی مجھے یہ بھی کہا، دیکھو تم میرے دوست ہو۔تم اگر سینیگال جانا چاہتے ہوتو زیادہ دور نہ جانا کیونکہ اس علاقہ میں تو میری نگرانی ہے۔اگر آگے چلے گئے تو پھر ادھر کوئی اور 89