ارضِ بلال

by Other Authors

Page 88 of 336

ارضِ بلال — Page 88

ارض بلال- میری یادیں ) اڑے تھوڑی دیر تک دائیں بائیں اوپر نیچے کھلی فضا میں قلابازیاں لگاتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔نوجوان دل ہی دل میں بہت خوش تھا کہ مجھے چند اسیر جانوں کو آزادی کی نعمت دلانے کی توفیق اور سعادت مل گئی ہے اور وہ اپنی کامیابی پر خوش ہو رہا تھا۔ابھی ادھر ہی کھڑا تھا۔جانے سے قبل اس نے آسمان کی طرف نگاہ بلند کی تاکہ آخری باران آزاد پنچھیوں کو دیکھ سکے تو کیا دیکھتا ہے کہ پرندے تو واپس آرہے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ اپنی پرانی چھت پر آ کر بیٹھ گئے اور پھر چند ثانیے بعد اپنے اپنے ڈربے میں داخل ہو گئے اور انہوں نے اپنے قدموں میں غلامی کی زنجیریں پہن لیں۔بے چارے نو جو ان کو اس بات کا بڑا دکھ اور صدمہ ہوا کہ کیوں یہ پرندے آزاد فضاؤں سے منہ موڑ کر واپس پابہ زنجیر ہو گئے۔قدرے غور وفکر کے بعد اس کا یہ عقدہ بھی حل ہو گیا کہ اسیری اور غلامی سے اسقدر مانوس ہو گئے ہیں کہ آزادی سے انہیں خوف آتا ہے۔غلامی نے ان کے اندر آزادی کی حس مٹادی ہے اور وہ سمجھتے تھے کہ ؎ تیجانی پیر صاحبان کی مخالفت اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے حضرت خلیفہ اصیح الرابع رحمہ اللہ 1988ء میں گیمبیا کے دورہ پر تشریف لائے۔اس ورود مسعود سے فرافینی اور اس علاقہ کے احمدی احباب کے علاوہ سینیگال سے بھی بہت سے شمع خلافت کے پروانوں نے اپنی دید کی پیاس بجھائی۔فرافینی کے کمیونٹی ہال میں بہت بڑا اجتماع ہوا جس میں حضور نے خطاب فرمایا۔اس جلسہ میں گیمبیا کے علاوہ بہت سے شرکاء سینیگال کے علاقہ کو لخ سے بھی تشریف لائے تھے۔ان کی سینیگال سے آمد، پھر واپس سینیگال جا کر حضور کی گیمبیا میں تشریف آوری اور اس کے نیک تاثرات کے بارے میں جماعت کی بہت زیادہ مشہوری ہوئی۔88