ارضِ بلال — Page 90
ارض بلال۔میری یادیں ) پولیس کا آفیسر ہو گا جو تمہارے لئے مشکل پیدا کر سکتا ہے۔میں نے اسے کہا کہ میں تمہارے لئے کوئی مشکل پیدا نہیں کرنا چاہتا اس لئے واپس چلا جاتا ہوں۔اس پر میں بارڈر سے واپس آ گیا۔چند ماہ کے بعد ایک روز مسٹر جوب فرافینی میں مجھے ملے اور کہنے لگے۔میرا خیال ہے اب کام ٹھنڈا پڑ چکا ہے۔اب ارباب اختیار اسے بھول چکے ہونگے۔اب تم حکمت عملی سے آیا جایا کرو۔اس طرح میرے مشکل کشا اللہ تعالی نے مشکلات دور کر دیں اور راستے پھر ہموار کر دیے اور تبلیغ کا سلسلہ چل نکلا۔کشتی غرق ہوتے ہوتے بچ گئی مکرم فضل احمد مجو کہ صاحب سینیگال کے علاقہ سیچو میں جماعتی دورہ پر تھے۔انہوں نے سیجو سے گنی بساؤ کی جانب ایک جماعت میں جانا تھا۔ان دو مقامات کے درمیان ایک دریا ہے، جسے کشتی کے ذریعہ عبور کرتے ہیں۔جس کشتی میں مجو کہ صاحب سوار ہوئے اس میں کشتی بان نے ضرورت سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو ٹھونس رکھا تھا۔سواریوں کے علاوہ اس میں موٹر سائیکلیں اور چھوٹا موٹا سامان بھی تھا۔جب کشتی دریا کے درمیان میں پہنچی۔اچانک کشتی میں ایک جگہ سے پانی اندر آنا شروع ہو گیا۔دراصل کشتی میں پہلے ہی ایک بڑا سوراخ تھا جوکشتی کے مالک نے کسی طرح مرمت کیا ہوا تھا۔ملاح نے پانی باہر نکالنے کی کوشش کی مگر پانی اس رفتار سے اندر آرہا تھا کہ یہ ایک آدمی کے بس کا روگ نہ تھا۔اب دوسری سواریوں نے بھی مختلف ذرائع سے پانی کشتی سے باہر پھینکنا شروع کردیا لیکن مناسب برتن نہ ہونے کے باعث پانی بڑھتا ہی گیا۔اس طرح نصف سے زائد کشتی میں پانی بھر گیا۔کشتی میں مرد حضرات کے علاوہ عورتیں اور بچے بھی تھے۔اس صورت حال میں ہر جانب خوف وہراس پھیل گیا۔ہر کسی کو اپنی آنکھوں کے سامنے موت رقصاں نظر آنے لگی۔عورتوں اور بچوں نے تو چیخنا چلانا شروع کر دیا۔لوگ مختلف طریقوں پر تو بہ استغفار میں لگ گئے۔دوسری جانب باوجود اجتماعی کوشش کے پانی کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔کشتی دریا کے درمیان میں 90