ارضِ بلال

by Other Authors

Page 87 of 336

ارضِ بلال — Page 87

ارض بلال۔میری یادیں تک کہ عمر جالوصاحب کو ان کے اپنے والد نے اپنی مسجد سے باہر نکال دیا اور سخت مخالفت کی اور پھر چند بوڑھے تا حیات اپنے پرانے خیالات پر ڈٹے رہے۔کیڑا جو دب رہا ہے گوبر کی تہہ کے نیچے اس کے گماں میں اس کا ارض وسما یہی ہے لیکن اللہ کے فضل سے یہ سب نوجوان اپنے عہد وفا پر قائم رہے اور انہوں نے دنیاوی خاندانی اور خونی رشتوں کو روحانی رشتوں کے مقابل پر بالکل قابل اعتنا نہ گردانا اور پھر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور جماعت کو تو فیق عطا فرمائی اور ہم نے ایک بڑی مسجد اس جماعت میں تعمیر کر دی۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں پر نماز جمعہ بھی ہو رہی ہے۔بوڑھوں نے اپنی مخالفت جاری رکھی۔ان کے بیٹے بھی جان گئے تھے کہ ہمارے ان بزرگوں کے دلوں پر ہمارے معاشرہ کے ناسور جعلی پیروں فقیروں اور فریبی مرابوں کے مکروں سے مہر لگ چکی ہے اور انکی آنکھوں پر دبیز پردے پڑ چکے ہیں۔کہتے ہیں، ایک دانشمند اور ہمدرد نو جوان صاحب دل بازار سے گزر رہا تھا۔اس نے دیکھا کہ ایک اونچی سی جگہ پر ایک پنجرہ پڑا ہوا ہے جس میں بہت سے کبوتر بے بسی اور لاچاری سے پھڑ پھڑا رہے ہیں۔اس نوجوان کو ان اسیر پرندوں کی بے بسی پر بہت ترس آیا اور اس نے سوچا کہ ان بے چاروں کی آزادی کے لئے کوشش کرنی چاہیئے تا کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی پیدا کر دہ کھلی فضا میں آزادی کا سانس لیں۔وہ پرندوں کے تاجر کے پاس گیا اور اس نے ان پرندوں کی قیمت دریافت کی۔جب تاجر نے ان کی قیمت بتائی تو اس نوجوان کو علم ہوا کہ وہ ان سب کی قیمت تو ادا نہیں کر سکتا۔پھر اس نے سوچا چلو اپنی جیب کے مطابق چند ایک پرندے تو آزاد کر سکتا ہوں۔اس نے چند پرندوں کی قیمت اس تاجر کے ہاتھ پر رکھ دی جس کے عوض تاجر نے بھی چند کبوتر اس نوجوان کے حوالے کر دیئے۔نوجوان نے بڑی خوشی سے کبوتروں کو فضا میں اچھال دیا۔کبوتر بڑی تیزی سے 87