ارضِ بلال

by Other Authors

Page 76 of 336

ارضِ بلال — Page 76

- میری یادیں - کیا۔ملک بھر میں جماعتیں قائم ہوگئیں۔پاکستان سے تین ڈاکٹر صاحبان ، تین مبلغین کرام اور دو دوست تعمیراتی کاموں کے لئے بھی تشریف لے آئے لیکن یہ چند سال مکرم حمید اللہ صاحب کے لئے بڑی مشکلات کے سال ثابت ہوئے کیونکہ یہ ملک انار کی کا شکار تھا۔آئے دن فوجی انقلاب آرہے تھے جس کے نتیجہ میں ان لوگوں کو کہیں نہ کہیں پناہ لینی پڑتی تھی۔ایک بار تو سینیگال کے علاقہ کولڈا میں آکر کئی مہینہ تک ان لوگوں نے قیام کیا۔پھر حالات بہتر ہونے پر واپس بساؤ گئے تھے۔شدید مخالفت اور نو مین لینڈ میں مرکزی کارکنان ملک بدر گنی میں جماعت کی ترقیات سے مخالفین حق اپنے خواب خرگوش سے بیدار ہو گئے اور پھر کیا تھا ! ساری مذہبی اور سیاسی طاقتیں جماعت کے خلاف کمر بستہ ہوگئیں۔پھر ایک روز اچانک مسلح فوجیوں کی گاڑیاں مشن ہاؤس میں پہنچ گئیں اور سب پاکستانی احمدیوں کو گن پوائنٹ پر گاڑیوں میں لاد کر گنی بساؤ اور سینیگال کے سرحدی علاقہ میں نو مین لینڈ (آزاد علاقہ ) پر چھوڑ آئے۔جن دنوں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا ان دنوں خاکسار جرمنی کے جلسہ سالانہ میں شرکت کے لئے جرمنی گیا ہوا تھا، وہیں اس کی خبر ملی۔وہاں سے سینیگال میں پاکستانی سفارت خانہ کے ایک آفیسر مکرم چوہدری منظور احمد صاحب سے رابطہ قائم کیا گیا۔انہوں نے کمال مہربانی سے گورنمنٹ سینیگال سے عارضی ویزے لے دیئے جس سے یہ مہاجرین میرے پاس ڈا کار میں آگئے۔چند ماہ قیام کے بعد حسب ارشا د مرکز گھانا چلے گئے۔ارض گنی بساؤ میں دو معلمین کی جانی قربانی ہر کامیابی کے حصول سے پہلے اس کے لئے قربانی دینی پڑتی ہے۔گنی بساؤ کی سرزمین پر بھی ہمارے دو بہت ہی پیارے پیمبین معلمین بھائیوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا۔مکرم اسماعیل تراول صاحب ایک آگ کے حادثہ میں اور مکرم یوبی باہ صاحب تبلیغ کے میدان میں اچانک بیماری کے نتیجہ میں مالک حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔76