ارضِ بلال

by Other Authors

Page 56 of 336

ارضِ بلال — Page 56

ارض بلال۔میری یادیں ) فوری طور پر ایڈوانس دیا اور کمرہ کی چابی لے لی۔اس طرح اچانک مجھے یہ کمرہ مل گیا۔دراصل اسی روز ایک مزدور وہ کمرہ چھوڑ کر کہیں اور جارہا تھا۔اس کمرہ میں کوئی چار پائی وغیرہ نہ تھی۔کمرہ کچا تھا۔فرش اکھڑے ہوئے تھے۔اس میں ایک پرانا سا فوم کا گدا موجود تھا۔میں چونکہ سفر کی تھکاوٹ اور بخار کی وجہ سے بہت کمزوری محسوس کر رہا تھا اس لئے فوراً کمرہ کھولا اور گدے پر لیٹ گیا اور پھر ساری رات بغیر کھائے پئے گزار دی۔اللہ نے فضل کیا صبح تک طبیعت سنبھل چکی تھی۔قریبی ریستوران میں جا کر ناشتہ وغیرہ کیا۔اس مکان میں دس کمرے تھے اور ہر کمرے میں مختلف لوگ کرائے پر رہ رہے تھے۔اس سارے گھر میں ایک ہی مشتر کہ غسل خانہ اور بیت الخلاء تھا جسے استعمال کرنا بہت صبر آزما کام تھا۔یہ کمرہ گیراج ڈاکار ( جہاں سے ڈاکار کے لئے گاڑیاں ملتی تھیں) کے قریب تھا جو کولخ سے ڈاکار جانے والی ایک مصروف سڑک کے دائیں طرف برلب سڑک تھا۔کمرہ کی کھڑکی سڑک کی طرف کھلتی تھی جس کی وجہ سے زندگی کافی متحرک نظر آتی تھی لیکن سڑک پر دوڑتی ہوئی گاڑیوں کی چیخ و پکار ساری رات بیدار رکھنے میں مدد کرتی۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد ( میں آئی تے بو مکائی والی بات ہوگئی ) شور وغل اور چیخ و پکار کا احساس ہی ختم ہو گیا۔اس مکان سے تھوڑے ہی فاصلہ پر ایک سونا ڈلیس کا سٹور تھا ( گورنمنٹ کی اشیائے خوردونوش کی دکان ) اس دکان کے نگران ایک بہت ہی نیک فطرت دوست مسٹر فال تھے۔ان کی دکان پر خرید و فروخت کے لئے چند بار گیا، مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی جس کی وجہ سے ان سے میری اچھی خاصی دوستی ہوگئی۔ان کا سر کاری مکان تھا جو کافی بڑا تھا اور اس میں قدرے بہت بہتر سہولتیں تھیں۔مسٹر فال نے مجھے کہا کہ اگر آپ نے غسل خانہ وغیرہ استعمال کرنا ہو تو میرے گھر آجایا کریں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ مشکل بھی حل کردی۔ان کا میرے ساتھ حسن سلوک اور تعاون مثالی تھا۔اللہ تعالی انہیں اجر عظیم عطا فرمائے۔اکثر اوقات میں کھانا بھی انہی کے پاس کھا لیا کرتا تھا اور حسب توفیق انکی خدمت کر دیا کرتا تھا۔56