ارضِ بلال — Page 57
ارض بلال۔میری یادیں اس مکان کے مالک نے اسے گرا کر اس جگہ پر ایک بڑا خوبصورت مکان بنادیا ہے لیکن میرے دل ودماغ میں ابھی تک وہ کمرہ موجود ہے جسے گرانا کسی کے بس کا روگ نہیں ہے۔موریطانین کے فرج کے لئے بجلی کا بل کمرہ ملنے پر رہائش کا مسئلہ تو کسی حد تک حل ہو گیا۔پانی پینے کے لئے میں نے ایک مٹی کا گھڑا خرید لیا جس سے یہ مشکل بھی ختم ہوگئی۔اب رہا کھانے کا مسئلہ،اس کے لئے میں نے ایک چھوٹا سا گیس کا سلنڈر اور کچھ ضروری برتن خرید لئے اور اپنے اس کمرہ میں ہی خود کھانا پکانا شروع کر دیا۔روٹی بازار سے لے لیتا اور سالن خود تیار کر لیتا۔ایک آدمی کے لئے روزانہ سالن تیار کرنا خاصہ مشکل کام ہے کیونکہ بہت سا وقت اسی پر لگ جاتا ہے۔اگر ایک ہی دفعہ زیادہ کھانا تیار کر لیتا تو سخت گرمی کی وجہ سے اگلے دن تک سالن خراب ہو جا تا تھا جس کی وجہ سے خاصی پریشانی تھی۔میرے مکان کے ایک کونے میں ایک موریطانین کی دکان تھی جس نے دکان میں ایک بڑا فریز ربھی رکھا ہوا تھا۔ایک روز میں نے اسے کہا اگر تم مہربانی کر کے میرے کھانے کا برتن اپنے فریزر میں رکھ لو اور میں روزانہ اس میں سے حسب ضرورت کچھ نکال لیا کروں گا۔تو آپ کی بہت مہربانی ہوگی۔کہنے لگا، بھائی صاحب ! یہ بہت مشکل کام ہے۔میرا بجلی کا بل پہلے ہی بہت زیادہ آ رہا ہے۔آپ کے برتن کی وجہ سے اور زیادہ ہو جائے گا۔اس لئے میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ویزا کی مشکل آسان ہوگئی اب میں کو لخ آتو گیا تھا لیکن میرے پاس یہاں لمبا عرصہ رہنے کا کوئی معقول جواز نہیں تھا۔کسی وقت بھی کوئی سرکاری اہلکار مجھے پکڑ کر پس زنداں کر سکتا تھا۔احمدی احباب میرے اس کمرہ سے خاصے دور دور رہائش پذیر تھے۔سارا دن اپنی اپنی مزدوری کرتے ،صرف جمعہ کے روز نماز جمعہ پر ان میں سے چند ایک کے ساتھ ملاقات ہو جاتی۔سینیگال میں لوگ انگلش نہیں بولتے اور مجھے فرنچ نہیں آتی تھی۔میں فرنچ سے ملتی جلتی کوئی 57