ارضِ بلال — Page 301
ارض بلال۔میری یادیں میں گیمبیا سے روانہ ہو کر کوناکری ایئر پورٹ پہنچ گیا۔باہر نکلا، ہر طرف نگاہ دوڑائی مگر کوئی چہرہ شناسانظر نہ آیا۔خیر سامان لیا اور ایک طرف کھڑا ہو گیا۔شاید ابھی کوئی مہربان آجائے گا اور مجھے اپنے ساتھ کسی ٹھکانہ پر لے جائے گا۔کافی انتظار کیا مگر بے سود! اب ایک طرف میں پریشان کھڑا تھا۔کیونکہ یہ ایک چھوٹا سا ایئر پورٹ تھا اور جہاز بھی کبھی کبھا رہی ادھر آتے تھے۔اس لئے وہی محدود سے کارکن اور کچھ ٹیکسیوں والے موجود تھے۔آخر مایوس ہو کر میں نے کسی قریبی ہوٹل کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ آجکل کوناکری میں دنیا بھر کے اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کا ایک سیمینار ہو رہا ہے اس لئے بہت سے ہوٹل ان کے لئے ریزرو ہیں۔اس کے علاوہ کوناکری شہر میں ایک عالمی تجارتی میلہ بھی لگا ہوا ہے۔جس کی وجہ سے دنیا بھر سے تاجر صاحبان صنعت کار اور دیگر متعلقہ شعبوں کے لوگوں نے باقی ہوٹلوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔اس لئے کسی ہوٹل کا ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ایک ٹیکسی والے نے مجھے بتایا کے اسے ایک ہوٹل کا علم ہے جس میں کمرہ ملنے کا امکان ہے۔میں اس کے ساتھ اس ہوٹل میں پہنچا۔یہ ایک درمیانہ سا ہوٹل تھالیکن اس کا کرایہ موجودہ صورت حال کی وجہ سے اچھے ہوٹل سے بھی زیادہ تھا۔میں نے سوچا کہ پہلے چائے پیتا ہوں اور حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتا ہوں۔میں نے چائے کا آرڈر دیا اور ابھی چائے کے انتظار میں تھا کہ میں نے کسی وجہ سے اپنا سامان کھولا۔اس میں مجھے ایک اپنی چھوٹی سی ڈائری نظر آئی۔میں نے ڈائری کھولی تو مجھے اس میں ایک فون نمبر نظر آیا جو گنی کو نا کری میں کسی سعید صاحب کا تھا۔میں اس آدمی کو نہیں جانتا تھا۔بہر حال میں نے اس نمبر پر ڈائل کر دیا۔دوسری طرف سے کسی نے اٹھا لیا۔میں نے اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے بتایا کہ میں سعید بول رہا ہوں اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امیر صاحب سیرالیون نے آنا تھا لیکن انہیں گنی کو نا کری کا ویزہ نہیں مل سکا ، اس لئے نہیں آسکے۔301