ارضِ بلال — Page 300
ارض بلال- میری یادیں ) ہم بازار کو روانہ ہو گئے۔شام کا وقت تھا۔میں نے دیکھا کہ ہماری صدر لجنہ محترمہ Jojo Cham صاحبہ سڑک کی ایک جانب کہیں پیدل جارہی ہیں۔میں نے مکرم اقبال صاحب سے کہا کہ گاڑی روک کر ان سے پوچھیں کہ انہوں نے کہاں جانا ہے۔گاڑی روکی اور ان سے پوچھا تو وہ کہنے لگیں اپنے گھر جانا ہے، کوئی ٹرانسپورٹ نہیں ملی اس لئے پیدل ہی جارہی ہوں۔ہم نے انہیں اپنی گاڑی میں بٹھالیا تاکہ ان کے گھر تک انہیں چھوڑ آئیں۔احوال پرسی ہوئی۔میں نے انہیں بتایا کہ پاؤں میں سخت درد ہے، دعا کریں ٹھیک ہو جائے۔میں نے کل گنی بساؤ کے دورہ پر بھی جانا ہے۔کہنے لگیں کہ میرے پاس ایک دوا ہے۔اگر وہ استعمال کریں تو شاید آپ کو فائدہ ہو جائے۔جب ان کے گھر پہنچے تو انہوں نے کچھ گولیاں مجھے دیں جو میں نے حسب ہدایت لے لیں۔ان گولیوں کے کھانے کی تھوڑی دیر میں ہی معجزانہ طور پر درد اور تکلیف دور ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ بہانے بہانے سے اسباب پیدا فرماتا ہے۔پھر اگلے روز بڑے آرام سے سفر شروع کیا۔یہ دورہ کافی دنوں کا تھا جو بڑے سکون کے ساتھ ہوا اور گنی بساؤ کے بہت سے مقامات پر جلسے اور میٹنگیں کرنے کے بعد بخیریت وا پسی ہوئی۔الحمد للہ۔سفر ہے شرط مہمان نواز بہتیرے نامساعد حالات میں اللہ تعالی نے قیام و طعام کا انتظام فرما دیا۔غالباً1993 ء کی بات ہے۔مکرم خلیل احمد مبشر صاحب سیرالیون میں جماعت کے امیر تھے اور ہمسایہ ملک گنی کو نا کری بھی جماعتی لحاظ سے سیرالیون مشن کے زیر نگرانی تھا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع ” نے انہیں گنی کو نا کری کے تبلیغی و تربیتی دورہ کے لیے ارشاد فرمایا اور مجھے بھی ہدایت ملی کہ میں بھی کو نا کری جاؤں کیونکہ میں فولانی اور فرانسیسی زبان میں بات چیت کر سکتا تھا۔نیز میرے پاس کیمبین نیشنلیٹی تھی جس کی وجہ سے میں افریقہ کے ممالک میں بغیر ویزہ کے سفر کر سکتا تھا۔حسب پروگرام ہماری کوناکری میں ملاقات ہونی تھی اور مکرم امیر صاحب سیرالیون نے ہی گنی کوناکری میں سب انتظامات کرنے تھے۔300