ارضِ بلال

by Other Authors

Page 302 of 336

ارضِ بلال — Page 302

ارض بلال- میری یادیں میں نے انہیں بتایا کہ فلاں ہوٹل کے ریستوراں میں ہوں۔کہنے لگے آپ نے ہوٹل میں کمرہ نہیں لینا۔ابھی تھوڑی دیر میں میرا ملازم آپ کے پاس آ رہا ہے۔آپ اس کے ساتھ میرے پاس آجائیں۔میں ابھی چائے پی رہا تھا کہ ان کا بھیجا ہوا آدمی پہنچ گیا اور مجھے سیدھا ان کی فیکٹری میں لے گیا۔سعید صاحب سے ملاقات ہوئی۔بڑے اخلاق سے پیش آئے۔ان سے مل کر علم ہوا کہ چند سال پہلے ڈاکار میں عالمی تجارتی میلہ میں ان کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی۔تھوڑی دیر کے بعد سعید صاحب مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے۔گھر ماشاء اللہ بہت بڑا تھا۔میرے لئے انہوں نے ایک خاص کمرہ تیار کر دیا جس میں ساری مناسب سہولیات تھیں اور پھر مجھے کہا کہ آپ جہاں چاہیں دن کو جائیں، مگر کھانے کے وقت آپ نے میرے گھر آ کر کھانا کھانا ہے۔اس کے بعد انہوں نے اپنی کار کی ٹینکی پٹرول سے بھر وائی اور ڈرائیور سمیت مجھے دے دی اور کہا کہ جب تک آپ کو نا کری میں ہیں، یہ گاڑی مع ڈرائیور کے آپ کے پاس رہے گی۔آپ جہاں بھی جانا چاہیں اس پر جاسکتے ہیں۔پھر تقریباً دس روز تک میں کوناکری میں رہا اور سعید ہو درج نے جس طرح خلوص اور پیار کا سلوک میرے ساتھ کیا اسے میں کبھی بھی نہیں بھلا سکتا۔میں حیران تھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے غیب سے میری مدد اور نصرت فرمائی۔پھر میرے لئے جہاں تک ممکن ہو ا جماعتی پیغام لوگوں تک پہنچایا۔کوناکری میں دو مقامات پر احمدی تھے، ان کے پاس بھی گئے اور اسی طرح سعید صاحب کے ہمراہ مختلف سرکاری دفاتر میں بھی تبلیغ کے لئے جانے کا موقع ملا اور بعض معززین کولٹریچر پیش کیا۔سعید ہو درج صاحب لبنانی النسل ہیں اور سیرالیون کے رہنے والے ہیں۔ان کی والدہ افریقن اور والد لبنانی ہیں۔ان کے والد محترم مولانا نذیر احمد علی صاحب کے زمانہ میں احمدیت میں داخل ہوئے تھے۔ان کا سیرالیون میں بڑا کاروبار ہے۔انہی دنوں میں انہوں نے کوناکری میں بھی اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔302