ارضِ بلال — Page 285
اس پر ارض بلال۔میری یادیں بر حضور انور بہت محظوظ ہوئے اور حضور نے از راہ شفقت فرمایا میں انشاء اللہ ان کو جلد نئی گاڑی بجھوا رہا ہوں اور پھر حسب وعدہ جلد ہی ایک نئی گاڑی گیمبیا مشن میں پہنچ گئی۔ڈاکٹر سعید احمد صاحب نے ایک دفعہ جلسہ سالانہ انگلستان کے موقعہ پر تبلیغ کے موضوع پر تقریر فرمائی تھی جس کا اکثر حصہ اسی سفر کے حوالے سے تھا۔انمول ہیرا۔ڈاکٹر عبدالسلام صاحب حضرت ڈاکٹر عبدالسلام صاحب ایک ایسا انمول ہیرا تھے جس کی روشنی چار دانگ عالم میں پھیل گئی اور ہر ملک، قوم اور علاقہ کے لئے پاکستان کی نیک نامی اور تعارف کا سبب بنے۔سینیگال پاکستان سے بہت دور دراز مقام ہے۔وہاں کے چند واقعات پیش خدمت ہیں جو بظاہر ڈاکٹر صاحب کی شان و مرتبہ کے لحاظ سے کچھ بھی نہیں کیونکہ آپ کے علمی کارناموں کے بارہ میں بڑی بڑی ضخیم کتب لکھی گئیں اور یہ کتا بیں دنیا بھر کی لائبریریوں کی زینت بن چکی ہیں۔ان کے سامنے یہ واقعات بہت معمولی نوعیت کے ہیں۔سورج کے آگے ایک کمز ورسی شمع جلانے کے مترادف ہے۔بہر حال اس ملک کے لحاظ سے ان واقعات کی اہمیت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ کس طرح آپ کی شہرت اور نیک نامی اللہ تعالیٰ نے دنیا کے کناروں تک پہنچائی۔(1) ایک روز سینیگال کے کو نخ نامی شہر میں خاکسار ایک ڈاکٹر صاحب کے پاس بغرض علاج گیا۔ڈاکٹر صاحب کو اپنا تعارف کرایا کہ میں پاکستانی ہوں اور جماعت احمدیہ کا مبلغ ہوں۔ڈاکٹر صاحب فوراً بولے پاکستان ایک عظیم ملک ہے وہاں کے لوگ بہت عالم اور ذہین ہیں۔میں نے پوچھا آپ یہ بات کس حوالہ سے کر رہے ہیں۔ان کے سامنے ایک فرنچ زبان میں رسالہ پڑا ہوا تھا جس کے سرورق پر ڈاکٹر سلام صاحب کی تصویر تھی اور ساتھ ہی آپ کے نوبل پرائز حاصل کرنے کی تفاصیل تھیں۔انہوں نے فوراً مجھے وہ رسالہ دکھایا اور کہنے لگے ہم سب مسلمانوں کو اسلام کے اس 285