ارضِ بلال

by Other Authors

Page 286 of 336

ارضِ بلال — Page 286

ارض بلال۔میری یادیں بطل جلیل پر فخر ہے۔(2) ایک دفعہ خاکسار ڈا کار سے کافی دور اندرون ملک کسی کام کے سلسلہ میں گیا ہوا تھا۔وہاں ایک پاکستانی دوست بھی مل گئے۔ہم لوگ ایک ریستوران میں چائے پینے کے لئے چلے گئے۔ہمارے ساتھ والے Table پر ایک یوروپین چائے پی رہا تھا۔اس سے باتیں شروع ہو گئیں اس نے ہمیں پوچھا کہ ہمارا تعلق کس ملک سے ہے؟ ہم نے اسے بتایا کہ ہم پاکستانی ہیں۔وہ شخص فوراً بوالا ڈاکٹر عبد السلام کے ملک سے ! خدا جانتا ہے کہ مجھے کس قدر خوشی اور مسرت ہوئی کہ اس دور دراز علاقہ میں بھی ڈاکٹر صاحب کا نام نامی گونج رہا ہے۔(اس شخص کا تعلق اٹلی سے تھا) (3) سینیگال میں جماعت کے ایک مخلص اور فدائی ممبر آنریبل کا بنے کا با صاحب ایک روز اپنے ایک عزیز کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے۔اتفاق سے ان کے اس عزیز کا نام بھی کا بنے کا با ہی تھا۔ان کے بارہ میں بتایا کہ میرے یہ عزیز ڈاکار یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر ہیں اور فرانس کے کسی ادارہ میں بھی تعلیم و تدریس کرتے ہیں۔سیاست سے بھی ان کا تعلق ہے۔آجکل اپنے شہر کے میئر بھی ہیں۔جب باتیں شروع ہو ئیں اور انہوں نے بتایا کہ وہ فزکس کے پروفیسر ہیں۔میں نے انہیں پوچھا کیا آپ نے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا نام سنا ہے۔وہ کہنے لگے کہ آپ نے عجیب سوال کیا ہے۔میرے نزدیک اس صدی میں کوئی آدمی انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہے جو ڈاکٹر عبدالسلام جیسی عظیم المرتبت شخصیت کے اسم گرامی سے نا آشنا ہو۔ی شخص تو ایسے لگتا تھا کہ ڈاکٹر سلام صاحب کا بہت بڑا عاشق ہے اور تقریباً سارا وقت وہ ڈاکٹر صاحب کے علم و معرفت اور خدمات کا اس رنگ میں ذکر کر تا رہا جس طرح کوئی ڈاکٹر صاحب کا بہت ہی قریبی عزیز باتیں کر رہا ہو اور یہ باتیں دل کی گہرائیوں سے کر رہے تھے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے افریقن ممالک کی بے حد خدمت کی ہے۔اور نیز بتایا کہ ڈاکار یونیورسٹی کا ایک 286