ارضِ بلال — Page 284
ارض بلال۔میری یادیں تھے۔پھر ان پر برساتی پانی نے بھی قبضہ کیا ہوا تھا۔جس کی وجہ سے ڈرائیور اور سواریوں کے لیے اپنی اپنی قسم کی مشکلات تھیں۔تھوڑی دور ہی آگے گئے تھے کہ گاڑی اچانک ایک جگہ پر رگ گئی۔میں نے اپنے طور پر اسے چلانے کی کوشش کی مگر نہ چلی۔کہتے ہیں گونگے کی رمزیں اس کی ماں ہی سمجھتی ہے۔میں بھی کسی حد تک اپنی کار کی بیماریوں سے واقف تھا۔میں نے سوچا کہ اس کا پٹرول بند ہو گیا ہے۔میں نے پٹرول والا پائپ اتارا۔اب ڈاکٹر صاحب یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔میں نے پائپ کو اپنے منہ کے قریب کیا۔اس پر ڈاکٹر صاحب سخت پریشان ہو گئے اور مجھے منع کیا کہ ایسا نہ کریں۔یہ بہت خطر ناک ہے۔لیکن ہم سب مبلغین کا تو یہ روز مرہ کا کام ہوتا ہے۔کیونکہ جنگلات میں جب گاڑیاں خراب ہو جاتی ہیں تو پھر کیا کیا ترکیبیں اور علاج سو جھتے ہیں! میں نے زور سے سانس کو اپنی طرف کھینچا، جس کے نتیجہ میں پیڑول کے پائپ میں جو رکاوٹ تھی وہ دور ہوگئی اور گاڑی چل پڑی اور سارے سفر میں کئی بار اس ڈرامہ کو دوہرانا پڑا کیونکہ گاڑی بار بار رک جاتی تھی اور پورے راستہ میں کوئی مکینک نہیں تھا۔بہر حال رستہ میں جماعتوں کا دورہ کرتے کرتے اپنی منزل فرافینی پہنچے۔رستہ میں اور بھی کئی اس قسم کے دلچسپ واقعات پیش آئے جو مکرم ڈاکٹر صاحب کے لئے عجیب اور تائید الہی کے مظہر تھے۔قصہ مختصر جب ڈاکٹر صاحب گیمبیا میں اپنے پروگرام کے اختتام پر واپس انگلستان تشریف لائے اور انہوں نے حضور انور کی خدمت میں ساری رپورٹ پیش کی۔اس میں سب سے نمایاں اسی سفر کی داستان تھی۔ڈاکٹر صاحب نے حضور کو بتایا کہ: Amir in the Gambia lives on petrol and his car goes on prayers۔284