ارضِ بلال — Page 269
ارض بلال۔میری یادیں کھینچیں ورنہ یہ لوگ آپ کے بارے میں سوچیں گے کہ آپ ایک متکبر شخص ہو اور اپنے آپ کو ان لوگوں سے بالا تر سمجھتے ہو اور اس قسم کا تاثر ایک مبلغ کے لئے مناسب نہیں ہے۔اللہ تعالی انہیں جزائے خیر دے۔میں نے ان کی نصیحت کو پلے باندھ لیا اور پھر جب بھی اس نوع کی فیری کے ذریعہ سفر کیا۔ہمیشہ ہی رسہ کھینچنے والوں میں شامل ہونے کی کوشش کی، بلکہ ہر قسم کے کام میں ان کے شامل حال رہنے کی کوشش کی جس سے عملی زندگی میں بہت ہی فائدہ ہوا۔اس کے بعد جلدی جارج ٹاؤن پہنچ گئے۔جارج ٹاؤن ایک مختصر سا قصبہ ہے۔دراصل یہ ایک جزیرہ ہے۔کھنڈر بتاتے ہیں کہ عمارت حسین تھی۔کسی زمانہ میں یہ انگریزی سلطنت کا ایک اہم مرکز تھا۔اس شہر کے زمین دوز تہہ خانے یہاں سے یورپ بھجوائے جانے والے غلاموں کی داستان عبرت آج بھی بیان کرتے ہیں کیونکہ یہی دریائے گیمبیا ہے جو انسانی تجارت کا اہم ذریعہ رہا ہے۔یہاں پر ایک مختصر مگر مخلص جماعت تھی۔اب تو تقریباً وہ سب بزرگ دار فانی سے رخصت ہو چکے ہیں۔اللہ تعالی ان سب کو غریق رحمت فرمائے۔آمین۔جارج ٹاؤن میں جماعت احمدیہ کی مسجد اور مشن ہاؤس میں پہنچے۔احباب جماعت کو اطلاع ملی تو تقریباً سبھی کشاں کشاں مسجد میں تشریف لے آئے۔جن میں سیڈی مختار حیدرا صاحب ، بالا جاتا صاحب، الحاج کو ثوا کبیر اصاحب، الحاج ساھو اور مسٹر سیانگ تھے۔ان بزرگ دوستوں نے ہم سب کا بڑا پر تپاک خیر مقدم کیا۔پھر ایک بڑے سے تھال میں کھانا لایا گیا اور سب احباب نے مل کر ایک ہی تھال نما برتن میں کھانا کھایا۔اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے مجھے بعض ضروری ھدایات دیں اور بصے شہر کے لئے روانہ ہو گئے۔اب میں جارج ٹاؤن میں تھا۔وہاں پر کوئی بھی جان پہچان والا شخص نہ تھا۔نئے لوگ ،نئی زبان، نیا کلچر اور بالکل اجنبی ماحول، میری انگریزی زبان ابھی تک نہ ہونے کے برابر تھی اور جماعت کے مقامی چیدہ بزرگوں کی انگریزی زبان کی بول چال کی اہلیت بھی کچھ میری انگریزی 269