ارضِ بلال

by Other Authors

Page 270 of 336

ارضِ بلال — Page 270

ارض بلال- میری یادیں ) سے ملتی جلتی تھی۔بہر حال غالباً اگلے روز رمضان شریف کا آغاز ہو گیا۔جون کا مہینہ تھا۔گرمی اپنے عروج پر تھی۔روزہ رکھ کر دن کے وقت گھر سے باہر نکلنا خاصا مشکل ہو جاتا تھا۔میں نے حسب توفیق درس و تدریس کا فرض ادا کیا۔نماز تراویح پڑھائیں اور بچوں کی تعلیم القرآن کلاس کا آغاز کیا پھر احباب سے بول چال کا سلسلہ شروع ہو گیا جس سے زبان میں کچھ روانی پیدا ہو گئی۔مکرم امیر صاحب کا ارشاد تھا کہ میں نے نماز عید جارج ٹاؤن میں ہی ادا کرنی ہے۔اس کے بعد مجھے اجازت ہے کہ میں بانجول آجاؤں۔بانجول مرکزی شہر بھی تھا نیز ادھر پاکستانی مرکزی کارکنان ڈاکٹر صاحبان ، اساتذہ کرام کی ایک خاصی تعدا دا اپنی فیملیز کے ساتھ رہتی تھی اس لئے یہاں کافی رونق تھی۔اہل خانہ سے نئی نئی جدائی ، شدید گرمی کے ایام ، زبان سے نابلد، احباب سے بول چال میں دشواری، کھانے پینے کا بالکل نیا انداز! اب تو کسی ہم زبان کے لئے ترس گئے۔اب دل میں صرف خواہش تھی کہ کب عید آئے اور بانجول جائیں اور اپنے پاکستانی رفقاء کرام سے ملیں۔خیر رمضان بخوبی گزر گیا۔عید پڑھائی اور عید کی وجہ سے ٹرانسپورٹ نہ ملنے کے سبب، اپنا بیگ اٹھایا اور پیدل ہی فیری کے لئے روانہ ہو گیا۔جو جارج ٹاؤن سے چند کلومیٹرز کے فاصلہ پر تھی۔فیری کے ذریعہ دریا عبور کیا۔پھر چند کلومیٹرز مزید پیدل سفر کر کے برلب سڑک آ گیا۔یہ ملک کی طویل ترین اکلوتی سڑک تھی۔اس دور میں گیمبیا میں بسیں وغیرہ نہ چلتی تھیں۔ہاں کچھ دیگین قسم کی کوئی اکا دکا گاڑی کبھی کبھار چلتی تھی۔خیر مین روڈ پر پہنچ گیا اور کسی گاڑی کا انتظار شروع کر دیا۔صبح سے دوپہر ہوگئی کسی گاڑی کا نام ونشان نہ تھا۔کبھی کبھار کوئی ٹرک مٹی اڑاتے ہوئے پاس سے گزرجا تا۔اب عید کا دن تھا۔صبح سے بھوکا۔سڑک کے کنارے بے یارو مددگار، خیر وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا۔بھوک تھکاوٹ اور مایوسی، نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن، اس پریشان کن صورت حال اور کیفیت کا اندازہ وہی کرسکتا ہے 270