ارضِ بلال — Page 268
دیار غیر میں پہلی نما زعید۔میری یادیں ابتدائی دور کی چند یادیں 1983ء کے اوائل میں خاکسار کو مرکز کی جانب سے گیمبیا، مغربی افریقہ جانے کے لئے ارشاد ہؤا۔اسی سال مئی کے مہینہ میں گیمبیا کے دارلحکومت بانجول پہنچا۔ان دنوں گرمی اپنے عروج پر تھی۔جون کے مہینہ میں رمضان شریف کی آمد تھی۔مکرم امیر صاحب نے ارشاد فرمایا کہ ماہ رمضان میں آپ جارج ٹاؤن جماعت میں چلے جائیں وہاں رمضان المبارک کے ایام میں درس و تدریس اور نماز تراویح وغیرہ کا اہتمام کریں۔مکرم امیر داؤد حنیف صاحب کی زیر قیادت، ایک دوست مکرم عمر سونکو صاحب کی ایک چھوٹی سی کار جس کا نمبر 6400 GO تھا، کے ذریعہ بانجول سے جارج ٹاؤن پہنچے۔یہ قصبہ بانجول سے پونے رصد کلو میٹرز کے لگ بھگ ہوگا۔کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد جارج ٹاؤن کے قریب پہنچے۔جارج ٹاؤن سے قبل ایک چھوٹا سا دریا بہتا ہے جسے ایک فیری کے ذریعہ سے عبور کیا جاتا ہے۔یہ فیری کسی انجن وغیرہ کی محتاج نہیں بلکہ فیری پر سوار مسافر اس پر بندھے ہوئے لوہے کے ایک طویل رسہ کو باہم مل کر اپنی طرف کھینچتے ہیں جس سے فیری مخالف سمت کو خراماں خراماں چل کر مسافروں کو دریا کے دوسرے کنارے پہنچا دیتی ہے۔جب فیری پر سوار ہوئے تو اکثر لوگوں نے لوہے کے رسہ کو کھینچنا شروع کردیا اور بعض لوگ ویسے ہی اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے دریا کا نظارہ کر رہے تھے۔میں بھی ایک طرف کھڑا ہو گیا اور زندگی میں پہلی بار اس قسم کے عجیب وغریب سفر چاره سے لطف اندوز ہونے لگا۔مکرم امیر صاحب نے مجھے فرما یا آپ کو چاہیئے کہ آپ بھی باقی مسافروں کے ساتھ مل کر رسہ 268