ارضِ بلال

by Other Authors

Page 267 of 336

ارضِ بلال — Page 267

ارض بلال۔میری یادیں سارے تعویذ چولہے میں پھینک دیئے گیمبیا کے ایک نوجوان مکرم ڈاکٹر خلیل ینگاڈ و صاحب تحصیل علم کی خاطر جرمنی تشریف لے گئے گیمبین روایت کے مطابق ہر کسی نے اپنی محبت میں ان کی نمایاں کا میابی اور پھر ہر دکھ در داور ابتلا سے محفوظ رہنے کے لئے انہیں ایک ایک بجو بجو ( تعویذ ) پہنادیا۔جب یہ دوست اپنے کالج میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے ساتھی طلبہ تو تعویذ کی نعمت سے محروم ہیں۔میں صرف اکیلا ہی انہیں پہنے پھرتا ہوں لیکن یہ لوگ تعویذ نہ ہونے کے باوجود مجھ سے زیادہ ذہین اور قابل ہیں۔مجھے اپنے تعویذوں کی بنا پر ان سب سے بہتر ہونا چاہیے تھا۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا میں روزانہ اپنے گھر آکر سوچتا کہ آیا یہ سب غلط ہیں یا میں انہیں پہن کر بیوقوف بنا ہوا ہوں۔کافی دنوں کے غور وفکر کے بعد میں نے انہیں پھینکنے کا فیصلہ کر لیا لیکن اپنے کمزور اعتقاد کی بنا پر پھینکنے سے ڈرتا بھی تھا کہ کہیں مجھے یہ نقصان نہ پہنچا دیں۔اسی بے یقینی کے عالم میں کافی دن گزر گئے۔دل اور دماغ کے درمیان مسلسل جنگ ہوتی رہی۔آخر ایک دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ یہ بالکل دھوکہ اور فریب ہے۔اب میں ضرور ان سے جان چھڑا کر ہی رہوں گا۔اب یہ سوال تھا کہ انہیں کس طرح ختم کیا جائے؟ اگر پھینک دوں تو شاید اپنی ضعیف الاعتقادی کے باعث دوبارہ اٹھا کر نہ پہن لوں۔انہوں نے ایک دن سارے تعویذ اٹھائے اور چولہے میں پھینک دیئے۔جس میں سارے تعویذ جل کر راکھ ہو گئے اور ان سے جان چھوٹ گئی۔جب جرمنی سے واپس آئے تو کچھ عرصہ بعد ان کا جماعت کے بعض دوستوں سے رابطہ ہوا۔نیک فطرت اور سعید روح تھے، جلد آغوش احمدیت میں آگئے۔267