ارضِ بلال

by Other Authors

Page 259 of 336

ارضِ بلال — Page 259

۔میری یادیں خلیفہ خدا بناتا ہے عیسائی صدر مملکت لیپورڈ سٹینفور نے علماء کو کیسا مسکت جواب دیا۔سینیگال کو جب اہل فرانس سے آزادی ملی سب سے پہلے سر براہ مملکت بننے کا سہرا لیپورڈ سیغور صاحب کے سر پرسجا تھا۔سینیگال کی اکثر آبادی مسلمان ہے۔عیسائی لوگ صرف پانچ فیصد کے لگ بھگ ہیں۔چونکہ مسلمانوں کی اکثریت زیر علم سے آراستہ نہ تھی اور عیسائی اگر چہ تعداد میں بہت تھوڑے تھے لیکن ان میں کافی لوگ پڑھے لکھے تھے۔سین غور صاحب عیسائی تھے لیکن اس کے باوجو دسر براہ مملکت بن گئے۔سب مسلمانوں نے بڑی خوشی اور سعادت سے انہیں قبول کر لیا۔ایک دفعہ سینیگال کے علماء اور شیوخ کو یہ خیال آیا۔یا کسی نے ان کے دماغ میں یہ بات ڈالی۔کہ ہم تو مسلمان ہیں اس لئے ہمارا سر براہ مملکت کوئی مسلمان ہونا چاہیئے۔لیکن پورے ملک میں ہم مسلمانوں میں کوئی ایسا گوہر نہیں جو رموز حکومت سے آشنا ہو۔اس پر انہوں نے سوچا کہ اس مسئلہ کا ایک حل ہے کہ علما اور شیوخ کا ایک وفد جناب صدر سے ملے اور انہیں درخواست کرے کہ آپ ایک اسلامی ملک کے سر براہ ہیں۔کیا ہی اچھا ہو کہ آپ مسلمان ہوجائیں۔پھر ہمارے اسلامی ملک کا مسلمان سر براہ ہو گا جس سے ہمیں بہت سے فوائد ملیں گے۔اس کے بعد یہ نمائندہ وفد سین غور صاحب کے دربار میں حاضر ہوا اور جا کر ان کی خدمت میں اپنی درخواست پیش کی۔سین غور بہت ذہین اور چالاک آدمی تھا۔اس نے کہا، مجھے آپ لوگوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے اور میں آپ کے اس مشورہ کا تہہ دل سے ممنون ہوں اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ کی بات ماننے کو تیار ہوں۔اس پر علما اور شیوخ اپنی اس کامیابی پر بہت خوش ہوئے۔تھوڑی دیر بعد سینغور صاحب نے کہا لیکن ایک چھوٹی سی مشکل ہے۔اگر آپ اس سلسلہ میں میری مدد کر دیں تو پھر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور وہ یہ ہے کہ سینیگال میں مسلمان بہت سے فرقوں میں تقسیم ہیں۔اگر میں تیجانی ہوتا ہوں تو مرید اور لائن اور دیگر فرقے مجھ سے نالاں ہو جائیں گے۔اگر میں مرید بنتا ہوں تو 259