ارضِ بلال — Page 258
ارض بلال- میری یادیں ) مال بردار بحری جہاز ڈاکار کی بندرگاہ پر آیا۔اس کے عملہ میں کچھ پاکستانی نوجوان بھی تھے۔مکرم صفدر علی صاحب ان کو ملنے کے لئے جہاز پر چلے گئے۔ان نوجوانوں میں سے کسی نے صفدر علی صاحب سے کہا کہ ہم کافی عرصہ سے سفر پر ہیں۔اب تو سخت بوریت ہو رہی ہے۔اس لئے اگر آپ کے پاس کوئی اردو زبان میں پاکستانی اخبار یا رسالہ ہو تو ہمیں دے دیں تو ہم آپ کے بہت ممنون ہونگے۔اس پر صفدر علی صاحب نے کہا۔میرے پاس تو صرف جماعت احمدیہ کے الفضل اخبار پڑے ہوئے ہیں۔اگر آپ پسند فرمائیں تو وہ میں آپ کو دے سکتا ہوں۔اس طرح وہ کافی سارے الفضل اخبارات ان بحری جہاز کے ملازمین کو دے آئے اور ان لوگوں نے بھی خوشی سے ان اخبارات کو لے لیا۔تقریباً اس بات کو پندرہ سال ہو گئے ہیں لیکن وہ جماعت کا بڑا احترام کرتا ہے۔ابھی تک اپنے ذاتی مسائل میں مجھ سے مشورہ کرتا ہے اور مجھے اپنے بڑے بھائی کا سا احترام دیتا ہے۔یہ سارا واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سفر کے دوران انسان کی قلبی کیفیت بہت مختلف ہو جاتی ہے ماحول کا انسان پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔جب تک ایسے لوگ اچھے ماحول میں ہوتے ہیں یہ مثبت کردار کے حامل بن جاتے ہیں۔لیکن جونہی یہ لوگ مولوی طبقہ کے زیر اثر ہوتے ہیں پھر انہی کی طرح خطر ناک اور زہر آلود ہو جاتے ہیں۔جس طرح ماچس کی تیلیاں اور ڈبیہ اگر لمبا عرصہ تک بھی اکھٹی رہیں تو آگ نہیں جلتی۔لیکن جب ایک تیلی کو ڈبیہ کے اوپر رگڑیں تو پھر ایسا شعلہ نکلتا ہے کہ الحفیظ و الامان ! کہتے ہیں کہ ماچس کی ایک تیلی پورے جنگل کو جلا کر راکھ کا ڈھیر کر سکتی ہے۔جسطرح عبد اللہ بن صباح کی زہر آلود شخصیت اور فتنہ پرداز ذہنیت نے ایک بہت ہی پرسکون اور پر امن ماحول کو کشت و خون میں نہلا دیا تھا۔258