ارضِ بلال — Page 260
ارض بلال- میری یادیں ) باقی فرقے مجھ سے ناراض ہو جائیں گے۔اس طرح میری محبت کی بجائے ان کے دلوں میں میرے لئے نفرت پیدا ہو جائے گی۔اس لئے میری یہ خواہش ہے کہ آپ لوگ جا کر کسی بھی ایک خلیفہ کا انتخاب کرلیں جو سب سینی گالی مسلمانوں کا اجتماعی لیڈر ہو تو میں فوری طور پر اس کی بیعت کرلوں گا۔اس پر سب علماء خاموشی سے وہاں سے چلے آئے۔اس کے بعد کبھی بھی سینغور کے پاس اس کام کے لئے نہیں گئے۔اور سین غور نے بڑے آرام اور سکون کے ساتھ ایک لمبے عرصہ تک بلا شرکت غیرے سینیگال پر حکومت کی تھی پھر از خود حکومت سے الگ ہو گئے اور آج تک سینی گالی قوم انہیں اپنا عظیم لیڈر جانتی ہے۔اور بہت سی اہم قومی بلڈنگز کے نام ان کے نام پر ہیں۔آنریبل سفیر سیرالیون کی حق گوئی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لائبیریا کے صدر مملکت گیمبیا کے یوم آزادی پر بطور مہمان خصوصی تشریف لا رہے تھے۔گیمبیا سے وزراء کرام مختلف ممالک کے سفراء کرام اور ان کے علاوہ مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے بہت سے معززین شہر بھی اپنے قابل احترام مہمان کے استقبال کے لیے ایئر پورٹ کے VIP لا ؤنج میں تشریف فرما تھے۔خاکسار بھی بطور امیر جماعت اس موقع پر حاضر تھا۔مختلف احباب کرام الگ الگ جگہوں پر تشریف فرما تھے۔جس جگہ میں بیٹھا ہوا تھا ادھر موریطانیہ کے سفیر صاحب تھے اور ان کے قریب سیرالیون کے سفیر آنرا یبل مسٹر فو فنا بھی بیٹھے ہوئے تھے۔باتوں باتوں میں موریطانین سفیر صاحب مسٹرفو فنا کو کہنے لگے۔آپ بہت اچھے مسلمان ہیں۔آپ کی اسلام سے محبت اور پیار کی وجہ سے میرا خیال ہے کہ آپ کی انگلی پوسٹنگ سعودی عرب میں ہوگی۔مسٹرفو فنا فورا بولے یہ بالکل ممکن نہیں ہے اور میں کبھی بھی ادھر جانا پسند نہیں کروں گا۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اہل سعود یہ صحیح مسلمان نہیں، اگر یہ لوگ صحیح مسلمان ہوتے تو ہم اہل افریقہ کبھی اس طرح کسمپرسی اور حالت زار میں نہ ہوتے۔یہ لوگ صرف اور صرف بڑی حکومتوں کو خوش کرنے میں 260