ارضِ بلال — Page 191
ارض بلال- میری یادیں - اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں مقام نعیم سے نوازے۔آمین۔مکرم شنا جام شہید صاحب میں 1983ء میں پہلی بار گیمبیا میں بطور مربی پہنچا۔ان دنوں بانجول کی ایک تنگ سی گلی میں ہمارا مشن ہوتا تھا۔مکرم داؤد احمد حنیف صاحب امیر تھے۔مختصر سا ان کا دفتر تھا جس میں امیر صاحب کی سادہ ہی کرسی کے علاوہ مشکل سے چار کرسیاں ساسکتیں تھیں۔میں نے دیکھا کہ ایک کیمبین نو جوان مشن میں تشریف لائے۔ان کا ایک ہی باز و تھا۔ان سے تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ ان کا نام ثنا چام ہے۔سو کٹا نامی قصبہ میں رہتے ہیں اور کسی مدرسہ میں ٹیچر ہیں۔میں نے دیکھا کہ تقریباً روزانہ ہی مشن میں آجاتے ہیں اور رات گئے تک مختلف جماعتی کام کرتے رہتے۔نمعلوم کب اور کس طرح اپنے گھر پہنچتے تھے کیونکہ ان دنوں ٹرانسپورٹ کی بہت مشکلات ہوا کرتی تھیں۔ان کا اپنے گاؤں جانے کا سفر کم از کم دو گھنٹے کا ہو گا۔لگتا تھا انہوں نے اپنے آپ کو جماعت کے لئے وقف کر رکھا ہے۔انہیں مسلسل مجلس عاملہ کا نمبر رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔مجلس انصار اللہ کے لمبا عرصہ صدر رہے اور خوب خدمت کی توفیق پائی۔انہوں نے کبھی کسی کو احساس تک نہیں ہونے دیا کہ وہ ایک بازو سے محروم ہیں۔بڑے بہادر اور با ہمت دوست تھے۔ہر قسم کی بھاگ دوڑ میں آگے ہوتے تھے۔جماعت کا شعبہ مال انہی کے سپرد ہوتا تھا۔بڑی دلجمعی سے سارا کام کرتے تھے۔گنی بساؤ میں احمدیت کا سہرا مکرم ثنا صاحب گنی بساؤ جایا کرتے تھے۔ان کے ہر طبقہ سے تعلقات تھے۔سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔بہت سے وزراء کے ساتھ ذاتی مراسم تھے۔انہیں تبلیغ کا بھی بہت شوق تھا۔ان کے ذریعہ گنی بساؤ میں احمدیت کا پودا لگا۔جو بعد میں تناور درخت بن گیا۔191