ارضِ بلال — Page 152
احمدی سفیر کی آمد۔میری یادیں اسی میلہ کے دوران میں پاکستانی ایمبسی میں گیا تو وہاں سے معلوم ہوا کہ اب اس مشن میں ایک احمدی سفیر تشریف لا رہے ہیں۔کچھ عرصہ بعد وہ احمدی سفیر تشریف لے آئے۔ماشاء اللہ بہت مخلص اور دعوت الی اللہ کا شوق رکھنے والے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی تقرری ایک عرب ملک میں بطور سفیر ہوئی تھی مگر ایک سیاسی مولوی نے وزیر اعظم کو بتایا کہ یہ قادیانی ہیں اور مسلم ملک میں ان کا بطور سفیر جانا مناسب نہیں ہے اور ان کی جگہ اپنے ایک عزیز کا نام تجویز کر دیا جو منظور ہو گیا۔اس طرح اس احمدی دوست کی تقرری سینیگال میں ہو گئی جس کے باعث آپ کی طبیعت میں انقباض پیدا ہوا کہ میرا حق مارا گیا ہے کیونکہ دوسرے ملک میں عام دنیاوی سہولتوں کے علاوہ مالی منفعت بھی زیادہ تھی۔اس پر انہوں نے ساری بات حضور انور کی خدمت میں بغرض دعا وراہنمائی تحریر کی۔اس پر حضور نے فرمایا آپ فوراً تشریف لے جائیں۔یہ تو خدا تعالیٰ میری خواب پوری کر رہا ہے۔حضور انور کی رؤیا مبارکہ کے نتیجہ میں ایک عظیم الشان انقلاب رونما ہوا ہے۔مندرجہ بالا واقعات صرف ان کی ابتدائی کڑی ہیں۔ایک عجیب خواب جو بڑے شان سے پورا ہوا سینیگال کی زمین لمبا عرصہ تک نہایت سنگلاخ رہی ہے۔بہت سی تبلیغی مساعی کی گئیں مگر بے سود۔کہیں کہیں کوئی پھل مل جاتا تھا۔ایک دفعہ ایک گاؤں Sare Mari جو نیورو کے علاقہ میں تھا وہاں کے نمبر دار جن کا نام کا با جالو تھا، انہوں نے بیعت کر لی۔یہ بات میرے لئے بہت خوشی کا باعث تھی اور میں نے بے شمار لوگوں کو بڑے فخر سے بتایا کہ اب سینی گال میں ایک نمبر دار بھی احمدی ہو گئے ہیں۔اس واقعہ سے اس زمانہ میں تبلیغ اور اس کے نتائج کی تصویر نمایاں طور پر سامنے آجاتی ہے کہ کس طرح کم اور معمولی نتائج تھے۔ایک روز سینگال جماعت کے ایک معلم مکرم احمد لی صاحب گیمبیا میں میری رہائش گاہ فرافینی میں تشریف لائے اور انہوں نے باتوں باتوں میں اپنا ایک خواب 152