ارضِ بلال — Page 151
ارض بلال۔میری یادیں ہم تجارتی میلہ میں شرکت کے لیے ڈاکار پہنچے۔میرے ساتھ مکرم داؤد باہ صاحب اور ابراہیم درامی صاحب اور ایک ڈرائیور تھے جن کا نام بھول گیا ہوں۔یہ سٹال دکان نما ہوتے ہیں اور ان کے سامنے اپنے اپنے اداروں کے ناموں کی پلیٹس لگ جاتی ہیں۔ہم نے بھی احمد یہ مسلم مشن کی تختی لگا دی۔بیرونی ممالک کےاحمدی زائرین ابھی ایک دن ہی گزرا تھا کہ ایک دوست جن کا نام سعید ہو درج تھا، وہاں تشریف لائے اور بتایا کہ میں احمدی ہوں اور سیرالیون کے تجارتی وفد کا سر براہ ہوں۔میں ایک احمدی بھائی کو مل کر بہت خوش ہوا اور ان کو اندر آنے کی دعوت دی۔وہ اندر تشریف لے آئے۔کچھ دیر بعد فرمانے لگے کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضور انور نے ڈاکار کے بارے میں خواب دیکھا ہے۔میں نے اثبات میں سر ہلایا مگر انہوں نے مزید بتایا کہ حضور انور نے اپنا خواب سیرالیون کے امیر صاحب کو بھی تحریر فرمایا ہے۔سبحان اللہ حضور کو کس قدر اپنی خواب کے من جانب اللہ ہونے پر یقین تھا، کس قدر خدا تعالیٰ کے ساتھ آپ کا پیارا خلاص اور توکل کا رشتہ تھا جس کی مثال عام دنیا کا انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔بنین سے احمدی دوست کی آمد ایک اور دوست سٹال پر تشریف لائے اور بتایا کہ الحمد للہ میں بھی احمدی ہوں اور بینن سے آیا ہوں۔ڈاکار یونیورسٹی میں بعض امتحانات کے سلسلہ میں ادھر ہوں۔ان سے ملاقات بھی بہت خوشی کا باعث بنی۔ایک اور و دست تشریف لائے اور بتایا میں مالی سے آیا ہوں اور ادھر کے مبلغ مکرم معاذ قر بالی صاحب میرے کزن ہیں اور میں بھی بفضلہ تعالیٰ احمدی ہوں۔ہماری کتب کی فروخت بھی گزشتہ سالوں کی نسبت بہت زیادہ ہوئی اور ہزاروں لوگوں تک پیغام حق پہنچانے کی توفیق بھی ملی۔یہ سارے اتفاقات عجیب تھے۔پہلے اس طرح کی باتیں ظہور پذیر کبھی نہ ہوئی تھیں۔یہ حضور انور کی خواب کے اثرات تھے جو ظاہر ہونے شروع ہو گئے تھے۔151