ارضِ بلال

by Other Authors

Page 137 of 336

ارضِ بلال — Page 137

ارض بلال- میری یادیں) اگلے روز ان کا مجھے فون آیا، کہنے لگے ، جزاکم اللہ ! میں نے کہا، جزاکم اللہ کس خوشی میں ! کہنے لگے کل جب میں ڈاکار سے تانبا کنڈا کے لئے روانہ ہوا ، شام کے وقت میں Gosas کے قریب پہنچا۔وہاں جنگل میں برلب سڑک نماز مغرب ادا کی اور کچھ کھانا وغیرہ کھایا۔اس کے بعد ہم لوگ اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔تقریباً ایک گھنٹے کے سفر کے بعد میں نے اپنے ڈرائیور سے کہا کہ مجھے میرا بریف کیس دیں۔ڈرائیور نے گاڑی میں بریف کیس تلاش کیا، مگر وہ تو ادھر نہ تھا۔بڑے پریشان ہوئے۔سوچا کہ جہاں نماز ادا کی تھی، وہاں بھول آئے ہیں گاڑی کا رُخ ادھر کیا۔لمبے سفر کے بعد اس جگہ پہنچے تو وہاں اس کا نام ونشان نہ تھا۔بہت زیادہ پریشانی ہوئی۔خیر صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔کہنے لگے، اگلے روز صبح مجھے کسی آدمی کا فون آیا اور کہنے لگا، آپ کا بنے کا با صاحب بول رہے ہیں؟ میں نے کہا ، جی میں کا بنے کا بابول رہا ہوں۔اس نے کہا کہ آپ کا کوئی سامان گم ہو گیا ہے۔میں نے کہا ، جی ایک بریف کیس گم گیا ہے اور اس میں سعودی عرب کا ایک ایئر ٹکٹ ہے اور اس کے علاوہ بعض ضروری کا غذات، پاسپورٹ اور ایک ملین سیفا ( پاکستانی ڈھائی لاکھ روپیہ ) ہے اس نے بتایا کہ میں ایک انجینئر ہوں اور آپ کے علاقہ میں دورہ پر آرہا تھا۔رات کو سڑک کے قریب ایک جگہ پر مجھے بریف کیس نظر آیا تو مجھے احساس ہوا کہ کوئی مسافر بھول گیا ہے۔میں نے گاڑی روکی اور کافی آوازیں دیں۔مگر جواب ندارد۔پھر اس کو میں نے اٹھا لیا۔اس کو کھولا تو اس سے آپ کی بیان کردہ اشیا ملیں اور آپ کا ایڈریس اور فون نمبر بھی۔اس طرح اب آپ سے رابطہ کر رہا ہوں آپ فکر نہ کریں۔میں اس وقت آپ کے شہر کے فلاں ہوٹل میں ہوں۔آکر اپنا سامان وصول کر لیں۔کہنے لگے مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔مجھے یہ کوئی خواب لگ رہا تھا۔یہاں تو لوگ گرے ہوئے مال کو اٹھا کے مال غنیمت سمجھ کر بے دریغ استعمال کر لیتے ہیں۔یہ کونسا فرشتہ سیرت انسان ہے جس نے از خود رابطہ قائم کیا اور سامان پوری حفاظت کے ساتھ واپس کر دیا۔پھر میں نے سوچا یہ چندے 137