ارضِ بلال — Page 138
- میری یادیں ) کی برکت ہے جو میں ڈاکار میں ادا کر آیا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قدر پریشانی اور نقصان سے بچالیا ہے۔مسیح کی جماعت کو پیدل نہیں چلنا چاہیے گیمبیا کے شہر بصے میں ایک ڈاکٹر صاحب نصرت جہاں کے تحت ایک کلینک چلا رہے تھے۔ان کا نام ڈاکٹر لئیق احمد فرخ صاحب تھا۔انہوں نے ایک روز مجھے یہ خوبصورت واقعہ سنایا جو آپ بھی سن لیں۔کہتے ہیں گھانا کے جس شہر میں وہ بطور ڈاکٹر خدمت کر رہے تھے، وہاں پر ایک بزرگ احمدی تھے جن کو الحاج کہتے تھے ( یہ بزرگ مکرم ابراہیم بن یعقوب مبلغ سلسلہ کے والد بزرگوار ہیں ) وہ کافی دنوں سے مسجد میں پیدل چل کر نماز پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ایک دن میں نے انہیں پوچھا، الحاج ! کار پر کیوں نہیں آتے؟ کہنے لگے کا ر خراب ہو چکی ہے۔ڈاکٹر صاحب کہنے لگے،اس کی مرمت کروالیں! حاجی صاحب، بولے پیسے نہیں ہیں۔اس کے کچھ عرصہ کے بعد مسجد میں ایک جماعتی میٹنگ ہوئی۔اس میں جماعت کا تبلیغی پروگرام زیر بحث تھا۔بہت سی باتوں کے علاوہ ایک بنیادی بات یہ بتائی گئی کہ کافی عرصہ سے مشن کی گاڑی خراب ہے۔اس لئے تبلیغ کے کام میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں، میٹنگ ختم ہوگئی۔اگلے روز حاجی صاحب نے ایک نئی گاڑی بازار سے خریدی اور لاکر مشن ہاؤس میں جماعت کو تبلیغ کے لئے تحفہ کے طور پر پیش کر دی۔اس کے بعد حاجی صاحب نے پھر مسجد میں پیدل آنا شروع کر دیا۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں میں نے پھر ایک دفعہ انہیں کہا کہ آپ گاڑی پر کیوں مسجد نہیں آتے؟ کہنے لگے، گاڑی خراب ہے۔میں نے کہا ٹھیک کروالیں۔کہنے لگے پیسے نہیں ہیں۔میں نے کہا پہلے بھی آپ نے یہی بتایا تھا مگر بعد میں آپ نے جماعت کو ایک نئی گاڑی خرید کر دے دی تھی۔138