ارضِ بلال

by Other Authors

Page 104 of 336

ارضِ بلال — Page 104

ارض بلال۔میری یادیں موجود اہلکار نے جا کر اپنے انچارج کو بتایا کہ یہ تو احمد یہ جماعت کی گاڑی ہے۔اس پر اس انچارج نے حکم دیا کہ ان کو فوراً واپس بجھوادیں۔ہم لوگوں نے وجہ دریافت کی مگر انہوں نے بڑی بدتمیزی کے ساتھ ہمیں باقاعدہ دھکے دے کر فیری میں ڈال دیا اور فیری ہمیں واپس سینیگال کی طرف لے آئی۔یہ سارا حادثہ اتنی تیزی کے ساتھ ہوا کہ انہوں نے ہمیں کچھ سمجھنے کا موقعہ ہی نہ دیا۔خیر ہم سینیگال کی طرف واپس پہنچے۔سخت پریشانی اور دُکھ کی کیفیت تھی۔اب شام بھی گہری ہورہی تھی۔حیران و پریشان دریا کے کنارے پر کھڑے تھے۔اتنے میں مکرم موڈ وسار صاحب کہنے لگے کہ میرا شناختی کارڈ تو موریطانین امیگریشن کے دفتر میں ہی رہ گیا ہے۔انہیں فوری طور پر ایک کشتی کے ذریعہ سے دوسری جانب بجھوادیا گیا۔اب ہم لوگ ان کی واپس آمد کے انتظار میں ایک طرف کھڑے ہو گئے۔کافی دیر کھڑے رہے لیکن موڈ وسار صاحب واپس نہ آئے۔اندھیرا بھی کافی ہو چکا تھا۔اب رات گزارنے کا مرحلہ تھا۔اس پورے علاقہ میں ہماری کوئی شناسائی نہ تھی۔وہاں سے کچھ فاصلہ پر ایک چھوٹا سا قصبہ رشائول ہے جہاں پر سینیگال کی اکلوتی شوگرمل ہے اور چند ہوٹل اور ریستوران بھی ہیں۔ہم لوگوں نے سوچا شائول چلتے ہیں اور رات وہاں بسر کریں گے اور پھر صبح واپس آکر موڈ وسار صاحب کومل لیں گے اور اس کے بعد اگلا پروگرام بنالیں گے۔مکرم عثمان صاحب نے گاڑی چلانی شروع کر دی۔چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ہم نے بائیں طرف مڑنا تھا۔جونہی گاڑی بائیں جانب مڑی میں نے دیکھا کہ ایک آدمی سڑک کی ایک جانب کھڑا ہے اور ہم لوگوں سے کار میں بیٹھنے کے لئے لفٹ مانگ رہا ہے۔میں نے عثمان کو کہا کہ گاڑی روک کر اس مسافر کو گاڑی میں بٹھا لو۔اس پر عثمان نے گاڑی روکی اور مسافر کو کار میں بٹھالیا۔اس مسافر نے بتایا کہ میرا نام بگے سوہ ہے اور میں قریبی گاؤں کر اسماں کا رہنے والا ہوں اور ایک ضروری کام کے لئے رشائول جانا چاہتا ہوں۔تھوڑی دیر کے لئے ہم نے مختلف موضوعات پر بات چیت کی۔اس کے پوچھنے پر ہم نے بتایا 104