ارضِ بلال — Page 103
ارض بلال- میری یادیں ) ہمارے پاس رہے۔جماعت کی باتیں ہوتی رہیں۔نمازیں انہوں نے ہمارے ساتھ ادا کیں اور بفضلہ تعالیٰ بیعت کر لی۔ان کا نام بامبوجوب صاحب تھا۔اس طرح فرافینی سے تقریباً چھ صد میل دور اللہ تعالی نے احمدیت کا پودا لگا دیا جہاں پر عام حالات میں میرے لئے جانا نا ممکنات میں سے تھا۔پھر ان کا گھر اس علاقہ میں جماعت کا ایک مرکز بن گیا۔اس کے بعد میں نے ایک معلم مکرم صالی جابی صاحب کو ان کے علاقہ میں بجھواد یا جو ان کے گھر میں لمبا عرصہ رہے اور اس علاقہ میں ان کے ذریعہ بہت سے مقامات پر احمدیت کا پودا لگا۔رشائول کے علاقہ میں ورودِ احمدیت $ 1997 11 ء سے قبل گیمبیا مشن کے زیر انتظام چند دیگر ہمسایہ ممالک بھی ہوا کرتے تھے۔یہ ممالک سینیگال، گنی بساؤ، کیپ ورڈ اور موریطانیہ تھے۔بعد ازاں جب اللہ کے فضل اور خلافت کی برکت سے اشاعت احمدیت کے میدانوں میں وسعت پیدا ہوئی جس کے نتیجہ میں تبلیغی اور تربیتی کام میں بھی قابل قدر اضافہ ہوا۔تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع ” نے از راہ شفقت اس علاقہ کو تین امارتوں گیمبیا،سینیگال اور گنی بساؤ میں تقسیم فرما دیا۔ایک دفعہ ہم نے گیمبیا سے موریطانیہ کے بعض علاقوں میں تبلیغ کا پروگرام ترتیب دیا۔اس تبلیغی پروگرام کے لئے میرے ہمراہ مکرم عثمان دابوصاحب ڈرائیور اور دو معلمین موڈ وسار صاحب اور مکرم علیوفائی صاحب تھے۔صبح سویرے ہم لوگ گیمبیا سے اپنی کار میں روانہ ہوئے اور ایک لمبا سفر طے کر کے شام کے قریب سینی گال اور موریطانیہ کے بارڈر پر پہنچے۔جونہی بارڈر پر پہنچے تو جلد ہی ہمیں فیری مل گئی۔جس کے ذریعہ ہم لوگ دریا کی دوسری جانب موریطانیہ میں چلے گئے۔وہاں پہنچ کر ضروری کاروائی کے لیے متعلقہ دفاتر میں گئے۔انہوں نے ہمارے پاسپورٹ وغیرہ چیک کیے اور آگے جانے کی اجازت دے دی۔اس کے بعد انہوں نے ہماری کار کے کاغذات دیکھے۔ان کا غذات پر لکھا ہوا تھا’ احمد یہ مسلم مشن گیمبیا‘ اس پر ڈیوٹی پر 103