عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 40 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 40

ہمارے اس موقف کی تائید میں درج ذیل حوالہ جات ملاحظہ ہوں جو اس مضمون پر کافی وشافی روشنی ڈالنے والے ہیں۔پہلی بات حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے جسے محمد غنیمی صاحب نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے : كَانَ الشَّعْرُ عِلْمَ قَوْمٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ عِلْمٌ أَصَحَ مِنْهُ۔۔۔فَجَاءَ الإِسْلَامُ فَتَشاغَلَتْ عَنْهُ العَرَبُ، وَتَشاغَلُوا بِالْجِهَادِ وَغَزْوِ فَارِسِ وَالرّومِ، وَوَهَتْ عَنِ الشَّعْرِ وَرِوايَتِه، فَلَمَّا كَثُرَ الإِسْلامُ، وَجَاءَتِ الفُتُوحُ وَاطْمَأَنَّت العَرَبُ بالأَمْصار، راجعوا روايَةَ الشَّعْرِ، فَلَمْ يؤولوا إِلَى دِيوَانٍ مُدَوَّنِ، وَلَا كِتابِ مَكتوب، وَأَلَّفُوا فِي ذَلِكَ، وَقَدْ هَلَكَ مِنَ العَرَبِ مَنْ هَلَكَ بِالْمَوْتِ والْقَتْلِ، فَحِفْظُوا أَقَلَّ ذَلِكَ، وَذَهَبَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ كَثيرٌ مُحَمَّد غُنَيْمي هلال، النَّقْدُ الأَدَبِيُّ الحَديثُ صفحة ٦ طَبْعَةُ دَارِ الثقافَةِ بَيْروت) یعنی شعر ، قوم عرب کے اس قدر درست علم کا مصدر تھا جس سے زیادہ درست اور کوئی مصدر ان کے پاس نہیں تھا۔۔۔جب اسلام آیا تو عرب لوگ جہاد میں اور فارس و روم کی طرف پیش قدمی و فتوحات میں مصروف ہو گئے اور شعر اور اس کی روایت سے غفلت اختیار کی۔پھر جب اسلام بکثرت پھیل گیا اور فتوحات ہوئیں اور عرب لوگ مفتوحہ ملکوں میں پراطمینان 40