عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 41 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 41

زندگی بسر کرنے لگے تو انہوں نے شعر کی روایت کی طرف رجوع کیا۔اس وقت انہوں نے دیکھا کہ نہ تو کوئی شعر کا مدون دیوان ہے نہ اس بارے میں کوئی لکھی ہوئی کتاب۔چنانچہ اس وقت انہوں نے اس بارے میں لکھنا شروع کیا جبکہ اس وقت تک بہت سے عرب شعراء وبلغاء یا تو وفات پاچکے تھے یا قتل ہو گئے تھے۔تاہم اس وقت انہیں جو قلیل مقدار میں علم مل سکا انہوں نے اسے محفوظ کر لیا لیکن اس علم کا بہت بڑا حصہ ضائع ہو گیا۔دوسری بات ابو عمرو بن علاء کا قول ہے جو کہ قراء سبعہ میں شامل ہیں اور بہت بڑے عالم اور نحوی سمجھے جاتے ہیں وہ لکھتے ہیں : ,, مَا انْتَهَى إِلَيْكُمْ مِمَّا قَالَت العَرَبُ إِلَّا أَقَلَّهُ، وَلَوْ جَاءَكُمْ وَافِرًا لجاءَكُمْ عِلْمٌ وَشِعْر كَثير، طَبَقاتُ فُحول الشعراء تأليف ابن سلام الجمحي، صفحة ٢٥ تحقيق محمود مُحَمَّد شاكر سَنَةَ ١٩٧٤م) یعنی تم تک عربوں کے کلام اور اقوال کا محض ایک قلیل حصہ ہی پہنچا ہے۔اور اگر یہ وافر مقدار میں تم تک پہنچتا تو تمہارے پاس پرانے عربوں کا بہت سا علم اور بہت سا شعری سرمایہ ہوتا۔تیسری بات چوتھی صدی ہجری کے مشہور ومعروف نحوی ابن جنی کا قول ہے جو انہوں نے اپنی کتاب ( الخصائص) میں لکھا ہے۔انہوں نے اس کتاب میں ایک باب باندھا ہے جس کا عنوان ہے: اختلاف اللغات وكلّها