اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 33
30 اوائل 1989ء کی بات ہے کہ اخبار الفضل میں لنڈن کی ایک معروف شخصیت کا مضمون چھپا کہ مولانا حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف رحمہ اللہ کا ( ڈیورنڈ لائن کے موقع پر ) شائع شدہ گروپ فو ٹو صیح نہیں۔جس کے جواب میں خاکسار نے ایک تحقیقی مقالہ لکھا جو مدیر الفضل“ مکرم مولانا نسیم سیفی صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ نے 22 مئی 1989 ء کی ایک خصوصی اشاعت میں ریکارڈ کر دیا اس کے بعد عاجز نے ” حضرت شہزادہ عبداللطیف شہید کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں یہ تحقیقی مقالہ بھی شامل کیا نیز دیباچہ میں لکھا کہ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ احمدیت کی دوسری صدی کی پہلی عید قربان ٹھیک 14 جولائی 1989 ء کو منائی جارہی ہے جو حضرت شہید کابل کا یوم شہادت ہے۔یہ کتاب عاجز نے سب سے پہلے محبوب آقا کی خدمت میں ارسال کی ازاں بعد جلسہ سالانہ میں شرکت کے لئے انگلستان پہنچا تو عجیب اتفاق ہوا کہ خاکسار جو نہی یت الفضل کے احاطہ میں داخل ہوا حضور پر نور نماز پڑھانے کے لئے تشریف لا رہے تھے۔حضور نے مجھے دیکھتے ہی میری آمد پر بہت مسرت کا اظہار کیا اور فرمایا مبارک ہو تم نے حضرت شہید مرحوم کے فوٹو پر تنقید کرنے والوں کو ساکت و صامت کر دیا ہے۔چند روز بعد حضور آسٹریلیا تشریف لے گئے اور 14 جولائی 1989ء کے خطبہ میں اس حیرت انگیز نکتہ کی طرف عالمگیر جماعت کو خاص توجہ دلائی کہ یہ عجیب توارد ہے کہ احمدیت کی دوسری صدی کی پہلی عید قربان ٹھیک 14 جولائی کو منائی جارہی ہے۔جس میں یہ پر اسرار پیغام محفلی ہے کہ عشاق احمد یت کو اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا ہوگا۔خاکسار 1990ء میں تلونڈی موسیٰ خان کیس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 298، 188 اور 295 کے تحت سنٹرل جیل گوجرانوالہ میں تھا۔حضور انور نے ہمارے کیس کی پیروی کے لئے محترم خواجہ سرفراز احمد صاحب ایڈووکیٹ سیالکوٹ کو مقررفرمایا آپ نے اس شان سے وکالت کا حق ادا کیا کہ حضور نے ایک خصوصی مکتوب ان کے نام لکھا جس میں آپ کو زبر دست خراج تحسین ادا کیا آپ کا وصال 22 مئی 2000ء کو ہوا۔