اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 32 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 32

29 29 چا کر پر اس قدر احسانات فرمائے کہ جن کا بلا مبالغہ شمار ممکن نہیں۔آپ نائب مہدی اور طل اللہ تھے اور آپ کے وجود مقدس میں ربوبیت، رحمانیت اور رحیمیت کی صفات پوری شان سے جلوہ گر تھیں جن کی جھلکیاں کسی نہ کسی شکل میں صبح و شام صاف دکھلائی دیتی تھیں۔خلیفہ بننے کے چند روز بعد حضور انور نے اس ناچیز کو پگڑی اور آموں کا تبرک عطا فر مایا۔خاکسار نے تحریری شکر یہ ادا کرتے ہوئے حضرت سید عزیز الرحمان صاحب بریلوی مالک عزیز ہوٹل بانس بریلی (متوفی 17 جولائی 1936ء) کی یہ روایت بھی لکھ دی کہ کسی دوست نے حضرت مسیح موعود سے عرض کیا کہ جنت کا پھل کیا ہوگا فرمایا آم۔جو اللہ سے شروع ہوتا اور محمد پر ختم ہوتا ہے۔“ ( روایات غیر مطبوعہ جلد 14 صفحہ 553) پیارے اور محسن حضور نے اپنے قلم مبارک سے جواب دیا کہ میرے آموں سے حضرت مسیح موعود کی روایت زیادہ قیمتی اور لذیذ ہے۔یہاں تحدیث نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ خدا کے فضل وکرم سے اس احقر العباد کے نام خلفاء اربعہ کے جملہ خطوط کا ریکارڈ بھی ( جو علم و معرفت کا آسمانی خزانہ ہے ) میرے پاس محفوظ ہے۔اوائل خلافت میں حضور نے اس امر کی تحقیق کے لئے ایک کمیٹی بنائی کہ کیا حضرت امام حسن علیہ السلام خلفاء راشدین میں شامل تھے ؟ حضور نے اس کمیٹی کا صدر عاجز کو نا مزد فرمایا۔پیارے آقا نے کمیٹی کی رائے سے اتفاق کیا لیکن ارشاد فرمایا کہ اس کی اشاعت کی ضرورت نہیں۔ابتداء ہی میں حضور نے جناب وکیل اعلیٰ صاحب تحریک جدید کو خاکسار کی نسبت ارشاد فرمایا کہ تحریک جدید کی سالانہ رپورٹیں جو مجھے بھجوائی جاتی ہیں انہیں بھی دکھلائی جائیں تا ضروری واقعات کا اس کے پاس بھی اندراج ہو اسی طرح چوہدری بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو بھی حکم دیا کہ جو خلا صے مجھے بھیجوار ہے ہیں وہ اسے بھی ضرور دکھلا دیا کریں نوٹ لے سکیں۔جولائی 1984ء میں یہ عاجز وفاقی شرعی عدالت کی کارروائی کے سلسلہ میں لاہور تھا۔حضور نے میرے ایک عریضہ کے جواب میں 25 جولائی 1984 کو تحریر فرمایا:- آپ تو ماشاء اللہ حوالوں کے بادشاہ ہیں۔سارے مولوی مل کر بھی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ ہر میدان میں آپ کا حامی و ناصر ہو۔“