اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 34
31 اے خدا بر تربت او بارش رحمت بیار داخلش کن از کمال فضل فضل در بیت النعيم میرے مشفق آقا نے ان دنوں ہم ناچیز خدام کے لئے نہ صرف خود نہایت گریہ وزاری سے اور نیم شی دعاؤں سے عرشی الہی کو ہلا دیا بلکہ 13 اپریل 1990ء کو محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ناظر امور عامه ( حال ناظر اعلی ) کو بذریعہ ٹیلی فون پیغام دیا۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مولوی دوست محمد صاحب اور دوسرے احمدی احباب کی قربانی قبول فرمائے۔عسى ان تكرهوا شيئ وهو خير لكم خدا کی خاطر تکلیف پہنچی ہے۔“ میں نے اپنی رپورٹ میں دینی سرگرمیوں کی رپورٹ حضور انور کی خدمت میں بھجوائی تو حضور نے بے انتہا مسرت کا اظہار فرمایا اور 19 جون 1990 ء کو تحریر فرمایا :- ” پیارے مکرم مولوی دوست محمد صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط ملا جیل میں ماشاء اللہ آپ نے خوب تبلیغ کی اور زبردست جماعت قائم کی ہے اللہ کرے آپ لوگوں کے بعد جو قیدی رہ گئے ہیں ان میں بھی باقاعدہ جماعت مستقل رہے۔“ علاوہ ازیں حضور نے اپنے قلم مبارک سے 16 اپریل 1990ء کو عزیزم ڈاکٹر سلطان مبشر صاحب کو حسب ذیل مکتوب گرامی ارسال فرمایا جو آپ کے ان قلبی جذبات کا عکاس تھا جو حضور کے قلب صافی میں بحرنا پیدا کنار کی طرح موجیں مار رہے تھے۔یہ روح پرور مکتوب انہوں نے خود جیل میں ہمیں پہنچایا اور ہم سب کے اندر زندگی کی ایک نئی برقی لہر دوڑ گئی اور پھر جلد ہی رہائی کے غیبی سامان بھی ہو گئے۔اس مبارک مکتوب کا مبارک متن ہدیہ قارئین ہے۔20 رمضان 1990ء پیارے عزیزم سلطان ! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته شیر پنجرے میں بھی شیر ہی رہتا ہے اور زنداں میں یوسف کی بوئے یوسفی نہیں جاتی۔اللہ کے شیروں سے ملنے جاؤ تو میرا محبت بھر اسلام اور پیار دینا۔یہ شیر عصائے موسیٰ کی صفات بھی رکھتے ہیں۔صاحب عصا کو ان کی طرف سے کوئی خوف نہیں۔یہ شیر و الـذيــن مـعـه کا