اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 14 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 14

13 صاحب کے اخلاص و خدمات کا تذکرہ شروع فرما دیا جس پر میں نے عرض کیا کہ خاکسار اپنے دادا صاحب کا ایک خصوصی پیغام لے کر آیا ہے کہ آپ نے میرے حافظ قرآن اور پڑھے لکھے بیٹوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔میرے دوسرے ان پڑھ یا معذور بچوں سے تبادلہ کر کے اپنی گنتی پوری کر لیں اور جیسا کہ بعد میں مولانا عبد الرحمن صاحب انور پرائیویٹ سیکرٹری نے مجھے بتایا کہ اہل راولپنڈی کی ملاقات کے دوران حضور بالکل خاموش رہے اور صرف مصافحہ کیا مگر جو نہی حضور نے میرے دادا کا پیغام سنا حضور بہت مسکرائے اور حضور کا روئے مبارک خوشی سے تمتما اٹھا اور پیار بھرے انداز میں فرمایا کہ اپنے دادا کو میرا پیغام بھی پہنچا دیں کہ مجھے بیٹوں کا یہ تبادلہ بخوشی منظور ہے۔آپ اپنے غیر احمدی بیٹے میرے حوالے کر دیں اور آپ کے احمدی بیٹوں کو میری طرف سے اجازت ہے کہ وہ احمدیت کو ترک کر کے آپ کے ساتھ شامل ہو جائیں۔حضرت مصلح موعود کا یہ پیغام لئے میں اگلے دن واپس دادا جان کے پاس پہنچا اور انہیں مبارک باد دی کہ ہمارے امام عالی مقام نے بچوں کا تبادلہ منظور کر لیا ہے لیکن جب میں نے پیغام کی تفصیل بتائی تو وہ زار و قطار بچوں کی طرح رونے لگے اور کہا تمہارے خلیفہ صاحب کتنے چالاک ہیں !!! انہیں یقین ہے کہ میرے مرزائی بیٹے تو کبھی ”مرزائیت کو نہیں چھوڑیں گے اس لئے اب وہ میرے دوسرے تین بیٹوں پر بھی ہاتھ صاف کرنا چاہتے ہیں۔ہم لوگ مارے ہنسی کے لوٹ پوٹ ہو گئے مگر دادا صاحب نے دوبارہ شور وفغاں شروع کر دیا۔دادا جان تھوڑے عرصہ بعد اپنے دل میں ہزاروں حسرتیں لئے چل بسے، ایک بیٹے نے جو پنڈی بھٹیاں کی ایک برلب سڑک مسجد کا امام تھا خود کشی کر لی ، دوسرا جو پاؤں سے معذور تھا لا ولد اس جہان سے اٹھ گیا۔اس کے مقابل تینوں احمدی بیٹوں نے لمبے عرصہ تک خدمت دین کی توفیق پائی اور عمر بھر مخالفتوں کے طوفانوں میں کوہ استقلال بنے رہے اور اب ان کی اولاد میں پاکستان، انڈیا ، ماریشس، کینیڈا اور جرمنی میں پھل پھول رہی ہیں جو محض خدا کا فضل اور اس کے خلیفہ موعود سید نامحمود نور اللہ مرقدہ ) کی مقبول دعاؤں کا کھلا اعجاز ہے۔