اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 15 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 15

14 -:7 فسادات ۱۹۵۳ء کے بعد حضرت اقدس نے مودودی صاحب کے شر انگیز رسالہ قادیانی مسئلہ' کا خود جواب لکھوایا اور پھر فرمایا کہ میاں بشیر احمد صاحب بھی اسے دیکھ لیں۔چنانچہ عاجز مسودہ لے کر حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے اپنے قلم سے اس کے اختتام پر ایک ضروری نوٹ کا اضافہ کیا جسے حضور نے بھی پسند فرمایا اور اشاعت کے لئے کراچی بھجوادیا گیا۔دراصل اس میں میرے لئے سبق تھا کہ کبھی اپنی تحریر کو حرف آخر نہ سمجھنا۔اس مسودہ سے مجھے یہ فائدہ بھی ہوا کہ حضرت میاں صاحب سے مستقل رابطہ کا دروازہ کھل گیا اور یہی میری دلی آرزو تھی جس کے غیبی سامان خدائے عز وجل نے اپنے محبوب بندہ محمود مصلح موعود کے مبارک ہاتھوں سے کر دیئے جس کے نتیجے میں یہ عاجز عمر بھر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی ذرہ نوازیوں کا مبط بنا رہا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میری دلچپسی علم کلام سے تھی۔میں تاریخ کے میدان میں بھی بالکل نو وارد تھا اور طفل مکتب بھی۔آپ کی قیمتی رہنمائی عاجز کو تاریخ احمدیت کی تدوین کے ہر مرحلہ پر حاصل رہی اور آپ کے احسانات و تلطفات میری زندگی کا بہترین سرمایہ ہیں۔نور اللہ مرقدہ۔وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے ( بسمل صابری) اللهم صل على محمد وعلى آل محمد وعلى خلفاء محمد و بارک وسلم انک حمید مجید۔