اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 13
12 ہمارے خاندان میں احمدیت کی نعمت حضرت میاں محمد مراد صاحب حافظ آبادی جیسے اہل کشف ورد یا بزرگ کے ذریعہ میسر آئی اور وہ بھی عجیب رنگ ہے۔بات یہ ہوئی کہ دادا صاحب نے حضرت میاں محمد مراد صاحب کو ان کی تبلیغی مساعی پر تین بار ظالمانہ طور پر زدو کوب کی جس پر آپ نے فرمایا تم نے تین دفعہ مجھے مارا ہے۔انشاء اللہ تمہارے تین عظمند بیٹے ضرور احمدی ہو جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی عمل میں آیا جس پر داد صاحب اور بھی مشتعل ہو گئے اور اپنی مخالفت میں روز بروز تیز سے تیز تر ہوتے گئے۔اس دوران وہ قادیان بھی گئے مگر اپنے بیٹے کی بجائے سکھوں کے گھر کھانا کھایا۔حضرت مصلح موعود جن دنوں نخلہ (خوشاب) میں تفسیر صغیر تالیف فرما رہے تھے خاکسار کو اچا نک ربوہ سے خانقاہ ڈوگراں کے قریبی گاؤں کلسیاں جانا پڑا جہاں میرے ایک احمدی چا اللہ بخش صاحب عرصہ سے مقیم تھے۔اتفاق کی بات یہ ہوئی کہ ان دنوں میرے دادا صاحب بھی وہیں موجود تھے اور اگر چہ بڑھاپے نے ان کو بہت کمزور کر دیا تھا مگر ان کی احمدیت دشمنی بدستور عالم شباب پرتھی۔مجھے دیکھ کر کہنے لگے کہ میں تمہارے خلیفہ صاحب سے مل کر فریاد کرنا چاہتا ہوں۔میں نے عرض کیا کہ میں واپسی پر سیدھا حضور ہی کی خدمت اقدس میں جارہا ہوں۔مجھے اپنا پیغام دے دیں، جاتے ہی پہنچا دوں گا۔انہوں نے درد بھرے دل سے مجھے کہا کہ میرے چھ بیٹے ہیں جن میں سے تین بچوں کو جن میں ایک حافظ قرآن اور دوسرے دو بھی بہت عقلمند اور صاحب علم ہیں، تمہارے خلیفہ صاحب نے مجھ سے چھین لئے ہیں اور باقی تین جو ان پڑھ یا معذور تھے میرے حوالے کر دیے ہیں۔انہیں میری طرف سے درخواست کریں کہ انہیں تو گنتی ہی پوری کرنی ہے وہ تبادلہ کر لیں میں قبر کے کنارے پر آپہنچا ہوں۔اس آخری وقت میں یہ تقسیم میرے لئے سوہان روح بنی ہوئی ہے۔میں ان سے ملاقات کے بعد ربوہ سے ہوتا ہوا سیدھا جا بہ پہنچا۔اس دن مکرم چوہدری احمد جان صاحب کی قیادت میں ضلع راولپنڈی کے مخلصین اپنے محبوب و مقدس آقا کی زیارت کے لئے پہنچے ہوئے تھے۔سب سے پہلے انہی کو شرف ملاقات عطا ہوا جس کے بعد خاکسار کو در بار خلافت میں حاضری کا موقع نصیب ہوا۔تصرف الہی ملاحظہ ہو کہ حضور نے از خود میاں محمد مراد