عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 77 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 77

یب 66 — 1 P دسمبر کے اجلاس لاہور کے بعد یہ خیال زور پکڑ گیا کہ حضرت با تحصے جماعت احمدیہ انگریز کے باغی نہیں بلکہ معاذ اللہ ایجنٹ تھے جس طرح پہلے بیان نبوت کا ذیہ حرف غلط کی طرح صفحۂ ہستی سے مٹ گئے اور انکی جماعت کا نام ونشان تک باقی نہ رھا آپ کی تباہی بھی یقینی تھی مگر انگریز نے استخدر مال وزر سے مدد کی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے قدم نہایت آسانی سے جم گئے ، مست ۱۹۲۹ ء سے قبل الزام بغاوت کو مستند سمجھا جاتا تھا مگر اس کے بعد اس خیال کو عملاً " وحی کا سا درجہ دے دیا گیا حالانکہ یہ نظر یہ در اصل انگریز کو خدا بنانے کے مترادف ہے۔وجہ یہ کہ قرآن مجید میں سورۃ الحاقہ ( ۴۵ - ۴۰) میں یہ اصول بیان فرمایا گیا ہے کہ جھوٹے مدعی نبوت کی رگ جان کٹ جاتی ہے ، اس کا سلسلہ برباد ہو جاتا ہے اور اگر ساری دنیا کی حکومتیں بھی مل جائیں تند و کسی کا یہ مدعی نبوت کو خدا کی سزا سے نہیں بچا سکتیں " فَمَا مِنكُمْ مِنْ أَحَدٍ عنه حاجزين (الحانه : (۴۸) بزرگان امت میں سے محمد و اسلام حضرت انام ابن قیم نے زاد المعاد جلد میں حضرت علامہ فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر سے مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی کی سوانح ریا میں ان حرار " " ر مؤلفہ عزیز الرحمان جامعی میں لکھنا ہے کہ : " ) ۱۹۲۹ ء کے کانگریس کے اجلاس میں ۲۹ دسمبر ۹۲۹ اعر کو مولانا آزاد کے مشورہ پر آل انڈیا کانگریس کے اسٹیج پر چودہری افضل حق حمایت کی صدارت میں مجلس احرار کا پہلا جلسہ ہوا ، م نیز لکھا ہے مجلس احرار ۱۹۲۹ء میں کانگریس کیمپ لاہور میں بنائی گئی تھی صدا سے قائد اعظم سے جنرل ضیاء یک م۳۱۵ از عارف بٹالوی های ) ناشر الطیر یک ایجنسی اردو بازار لاہور) " ۱۳۴ صاح