عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 78 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 78

میں، علامہ جعفر طبری نے تفسیر" این تبریر میں، حضرت ولوی آل حسن صاحب نے ازالہ اوہام میں حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے اظہار حق نہیں ، امام اہل سنت حضرت علامہ سعد الدین تفتازانی کے شرح عقائد" میں اور علامہ حضرت عبد العزیز فرتھا روی نے اسکی شرح تیر اس میں اس قرآنی اصول کا بطور خاص تذکرہ فرمایا ہے اور دعوای ماموریت کے بعد ۲۳ سالہ عمر کو صادق کا پیمانہ تسلیم کیا ہے۔عہد حاضر کمتاز علماء میں سے جناب مولانا ثناء اللہ امرتسری دیباچہ تفسیر ثنائی مڈا میں تحریر فرماتے ہیں :- " نظام عالم میں جہاں اور قوانین خداوندی ہیں یہ بھی ہے کہ کاذب مدعی نبوت کی ترقی نہیں ہوا کرتی بلکہ وہ جانے گا جاتا ہے۔واقعات گزت سے وہ بھی اس امر کا ثبوت پہنچتا ہے کہ خدا نے کبھی کسی جھوٹے نبی کو سر میبری نہیں دکھائی یہی وجہ ہے کہ دنیا میں باوجود غیر متناہی مذہب ہونے کے جھوٹے نبی کی امت کا ثبوت مخالف بھی نہیں بتلا سکتے ، بھر حاشیہ میں فرماتے ہیں " دعوی نبوت کا ذبہ مثل زہر کے ہے جو زہر کھا ئیگا ہلاک ہو گا" دنئے ایڈیشن سے " ثنائی اکادیمی لاہور نے یہ عبارت دیباچہ تفسیر نفذت فرما دی ہے ) یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پہلے حضرت اقدس کو حکومت کا باقی کہا گیا پھر یہ کہا گیا کہ آپ نعوذ باللہ انگریز ہی نہیں تھے مگر کچھ عرصہ سے پہلے خیال کی باز گشت سنائی دی جانے لگی ہے اور یہ رائے قائم کی گئی ہے کہ آپ کا مقصد ابتدا ہی سے ربع مسکون پیر احمد می حکومت کا قیام تھا چنانچہ