انوار خلافت — Page 90
१۔سے کان میں پڑی ہوئی بات پھر مٹ نہیں سکتی۔کیا اگر دنیا میں نسلی تعصب نہ ہوتا تو اسلام بھی کا سب مذاہب کو کھا نہ جاتا ؟ ضرور کھا جاتا۔مگر چونکہ دوسرے مذاہب والوں نے بچپن میں ہی ماں کی گود میں بیٹھ کر یہ سنا ہوا ہے کہ اسلام جھوٹا ہے۔اس لئے باوجود ہزاروں دلیلوں کے پھر بھی نہیں مانتے۔اگر تم لوگ اپنی آئندہ نسلوں میں احمدیت دیکھنا چاہتے ہو تو ان ماؤں کو پور اپورا احمدی بناؤ۔اور احمدیت سے خوب واقف کرو۔یاد رکھو اگر تمہاری آئندہ نسلوں میں احمدیت نہ رہی تو تمہاری اس وقت کی ساری کوشش اور محنت ضائع جائے گی۔کیونکہ انسان تو پچاس ساٹھ یا زیادہ سے زیادہ سو سوا سو سال کے عرصہ تک مر جاتا ہے۔اگر اس کی جگہ لینے والا کوئی اور نہ ہوا تو وہ خالی ہو جائے گی۔میرے چھوٹے بھائی میاں بشیر احمد نے مجھے ایک بات سنائی کہ گورنمنٹ کالج کے ایک طالب علم کو میں نے بعض دوسرے غیر احمدی طلباء سے یہ کہتے سنا کہ ہمارے ابا جان بڑے ہی نیک انسان ہیں کئی سال ہوئے کہ وہ احمدی ہوئے ہیں لیکن ہمیں کبھی ایک دن بھی انہوں نے نہیں کہا کہ تم بھی احمدی ہو جاؤ۔اس لڑکے کو اپنے باپ میں یہ نیکی نظر آئی کہ مجھے احمدی بننے کے لئے کبھی نہیں کہا گیا۔لیکن کس قدر افسوس ہے اس باپ پر جس نے اس طرح کیا۔کیا ایک باپ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچے کو کنویں میں گرنے دے گا۔نہیں بلکہ ممکن ہے کہ بچہ کوگرنے سے بچاتے ہوئے خود بھی گر پڑے۔مگر بچہ جہنم میں جاتا ہے اور باپ سامنے کھڑا دیکھ رہا ہے۔پکڑتا نہیں بلکہ خوش ہوتا ہے۔پس تم اپنے گھروں میں تعلیم دو تا کہ تمہاری اولاد بھی سیکھے۔میرا دل چاہتا ہے کہ ہماری نسلیں ہم سے بھی زیادہ احمدیت کا جوش لے کر اٹھیں۔تا خدا تعالیٰ کا یہ دین اطراف عالم میں پھیل جائے۔اس لئے میں یہی نہیں کہتا کہ تم قرآن پڑھو بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی پڑھاؤ تا کہ جس طرح تم اس دنیا میں اکٹھے ہو اگلے جہاں میں بھی اکٹھے ہی رہو۔یہ کوئی معمولی بات نہیں میں اس کو سختی سے محسوس کر رہا ہوں۔اس لئے سخت تاکید کرتا ہوں کہ عورتوں کے پڑھانے کی طرف جلدی توجہ کرو۔ہماری جماعت میں عورتیں کم داخل ہیں اور بچے بھی کم احمدی ہیں جس کی یہی وجہ ہے کہ وہ تعلیم دین سے ناواقف ہیں۔تمہیں