انوار خلافت — Page 89
۸۹ اس سے نا انصافی کرتا ہے اسے بھی اس وعید سے ڈرنا چاہئے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کی بیوی بیمار ہوتو گھبراتا ہے علاج معالجہ کے لئے ادھر ادھر بھاگا پھرتا ہے دعا کے لئے ہماری طرف تاریں بھیجتا ہے لیکن اگر بیوی روحانی بیماری میں مبتلا ہو تو اسے کوئی فکر نہیں ہوتا۔اگر بیوی کے سر میں درد ہو تو میری طرف لکھتے ہیں کہ دعا کی جائے۔لیکن اگر نماز روزہ کی تارک ہو۔تو پتہ بھی نہیں دیتے۔اگر کھانسی ہو تو حکیم کے پاس دوڑے جاتے ہیں۔لیکن اگر زکوۃ نہ دیتی ہو بخل کرتی ہو۔تو پرواہ نہیں کرتے۔بخار کھانسی اور درد کو خطرناک سمجھتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ اس کھانسی بخار اور درد کی ماری ہوئی بیوی تو انہیں مل جائے گی مگر دین کی ماری ہوئی نہیں ملے گی۔اس دنیا کی جدائی سے گھبراتے ہیں اور ہر طرح کی کوششیں کرتے ہیں کہ جدائی نہ ہو لیکن اس ہمیشہ کی جدائی کا انہیں فکر نہیں ہے جو بے دین ہونے کی وجہ سے واقعہ ہوگی۔پس اگر تمہیں اپنی عورتوں سے محبت ہے، پیار ہے، انس ہے تو جس طرح خود دین کی تعلیم سیکھتے ہو اسی طرح ان کو بھی سکھاؤ۔اور یا درکھو جب تک اس طرح نہ ہو گا ہماری جماعت کا قدم اس جگہ پر نہ پہنچے گا جس جگہ صحابہ کرام کا پہنچا تھا۔کیونکہ اولاد پر عورتوں کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔اگر عورتوں کے بے دین ہونے کی وجہ سے اولا د بھی بے دین رہی تو آئندہ کس طرح ترقی ہوگی۔ہمارے ایک دوست لکھتے ہیں کہ میں اپنے بچوں کو احمدیت کے متعلق سمجھا تا رہتا ہوں لیکن جب باہر جاتا ہوں تو ان کی والدہ پیار سے اپنے پاس بلا کر کہ دیتی ہے کہ تمہارا باپ جو کچھ کہتا ہے سب جھوٹ ہے اس کو نہ ماننا۔اس طرح بچے ویسے کے ویسے ہی ہو جاتے ہیں۔اب غور کرو کہ بچے باہر رہنے والے ابا کی بات مانیں گے یا ہر وقت پاس رہنے والی ماں کی۔ماں سے بچوں کو بالطبع محبت ہوتی ہے اس لئے اس کی بات کا ان پر زیادہ اثر ہوتا ہے اور اسی کی بات وہ جلدی قبول کر لیتے ہیں۔چنانچہ بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے جنہوں نے عیسائی عورتوں سے شادی کی ان کی اولاد بھی عیسائی ہو گئی۔جس کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ ماں اپنے بچوں کو خفیہ خفیہ عیسائیت کی تعلیم دیتی رہی۔پس تم لوگ اگر اپنی اولاد کو دیندار بنانا چاہتے ہو تو ان کی ماؤں کو مضبوط کرو تا کہ تمہاری نسلیں مضبوط ہوں۔کیونکہ بچپن