انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 193

انوار خلافت — Page 43

۴۳ جگہ آنحضرت سان اسلام کے دشمنوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ وہ اسلام کی طرف بلائے جاتے تھے۔یہ خیال ابتداء بیشک خوش کن معلوم ہوتا ہے لیکن قرآن کریم پر ایک ادنی غور کرنے سے اس کی غلطی معلوم ہو جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ اس جگہ کسی ایسے شخص کا ذکر ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے کیونکہ افتراء کہتے ہیں اس بات کو ہیں جو جان بوجھ کر بنائی جائے اور کذب اور افتراء میں یہ فرق ہے کہ کذب اس کو بھی کہیں گے جو بات غلط ہو خواہ اس شخص نے خود نہ بنائی ہو بلکہ کسی سے سنی ہو۔مثلاً ایک شخص کسی سے سن کر کہے کہ زید لا ہور چلا گیا ہے اور وہ گیا نہ ہو۔تو وہ کا ذب ہے مفتری نہیں لیکن اگر اس نے خود اپنے دل سے یہ بات بنائی ہو تو وہ کاذب بھی ہے اور مفتری بھی ہے۔پس چونکہ آیت کریمہ میں افتری عَلَی اللہ کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی نسبت کوئی بات کہتا ہے۔یعنی مدعی ہے اور قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی منکر کی نسبت مُفْتَرِی عَلَی اللہ کا لفظ نہیں آیا بلکہ یہ لفظ جب استعمال ہوا ہے۔مدعی کی نسبت ہی ہوا ہے چنانچہ کفار کی نسبت بھی جب یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے تو پہلے ان کا دعوی بیان کیا ہے۔غرض افترى على الله کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کوئی مدعی ہے۔اب ہم ان آیات کو دیکھتے ہیں تو ان میں کفار کا کوئی دعوئی ایسا بیان نہیں جو وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوں بلکہ صرف ان کا انکار بیان ہے اور منکر کی نسبت مُفتَرِی عَلَی اللہ نہیں کہتے۔پس کفار اس آیت میں مراد نہیں ہو سکتے۔بلکہ مدعی رسالت کا ہی اس آیت میں ذکر ہے کہ اگر وہ خدا پر اس حالت میں جھوٹ بول رہا ہے کہ اسے اسلام کی طرف بھی بلایا جاتا ہے تو ہلاک کیوں نہیں ہو جاتا۔آخر میں حجت پوری کرنے کے لئے میں یہ بھی تسلیم کر لیتا ہوں کہ کفار کا جو یہ قول نقل ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے یہ ان کا دعویٰ ہے۔گو کوئی دانا اسے دعوی نہیں کہے گا بلکہ