انوار خلافت — Page 44
۴۴ یہ انکار ہے تو بھی یہ آیت کفار پر چسپاں نہیں ہو سکتی کیونکہ اس آیت میں افتری عَلَی اللہ کا لفظ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا دعوئی خدا تعالیٰ کی نسبت ہے اور وہ جو بات کہتا ہے اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے لیکن یہ کہنا کہ فلاں شخص جو بات کہتا ہے یہ فریب ہے اگر اسے دعوئی ہی مان لیا جائے تو یہ افتراء تو کہلا سکتا ہے افتَرى عَلَى اللهِ نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ یہ اگر جھوٹ ہے تو اس شخص پر جو سچا ہے لیکن یہ اسے جھوٹا کہتا ہے اور خدا پر یہ افتر ا نہیں ہے لیکن آیت مذکورہ میں افتری علی اللہ کا ذکر ہے جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اس آیت میں اسی رسول کا ذکر ہے جس کی آمد کی پہلے اطلاع دی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اگر یہ شخص جھوٹا دعوی رسالت کرتا ہے اور خدا پر افتراء کرتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ باوجوداس کے کہ اسلام کے ہوتے ہوئے یہ ایسی شرارت کرتا ہے خدا تعالیٰ اسے ہلاک نہیں کرتا۔غرض اس آیت میں صاف طور پر بتادیا گیا ہے کہ یہ احمد رسول رسول کریم صلی ا یہ نام کے بعد آئے گا اور اس وقت کے مسلمان اسے کہیں گے کہ اسلام کی طرف آ۔اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی زبانی ان سے کہے گا کہ اگر اسلام تمہارے پاس ہے اور تم اسے اسلام کی طرف بلاتے ہو اور یہ پھر بھی خدا پر افتراء سے باز نہیں آتا تو کیوں ہلاک نہیں ہوتا۔اور جبکہ یہ ہلاک نہیں ہوتا تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلام پر ہے نہ کہ تم۔آخر میں میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ اعتراض کہ قرآن کریم میں مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرای عَلَى اللهِ كَذِیا۔کئی جگہ پر آیا ہے جہاں کوئی پیشگوئی نہیں درست نہیں۔کیونکہ وہاں کسی جگہ بھی وَهُوَ يُدعَى اِلَى الْإِسْلَام کی شرط مذکور نہیں اور صرف اسی جگہ یہ شرط بیان ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چونکہ اس جگہ عام قاعدہ نہیں بیان کیا گیا تھا بلکہ ایک پیشگوئی تھی اس لئے یہ لفظ بڑھا کر اس رسول کی ایک حد تک تعیین بھی کر دی کہ وہ اسلام کے ظہور کے بعد آئے گا۔