انوار خلافت — Page 42
۴۲ ہے۔پس یہ شرط کہ اگر وہ جھوٹا ہے اور لوگ اس کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں رسول کریم میں نہیں پائی جاتی کیونکہ لوگ آپ کو اسلام کی طرف نہیں بلاتے تھے بلکہ لات ومنات کے دین کی طرف آپ کو بلاتا تھا۔کوئی یسوعی مذہب کی طرف کوئی یہودی دین کی طرف کوئی زرتشتی دین کی طرف اور ایسا کوئی بھی نہ تھا جو آپ کو اسلام کی طرف بلاتا ہو بلکہ آپ لوگوں کو اسلام نام دین کی طرف بلاتے تھے پس آپ داعی اِلَى الْإِسْلَامِ تھے نہ کہ يُدعى الى الْإِسْلَام اور دین اسلام کی طرف کوئی ایسا ہی شخص بلا یا جا سکتا ہے جو ایسے وقت میں آئے کہ اس وقت دنیا میں کوئی مذہب اسلام نامی ہو۔اور اس بات میں کیا شک ہے کہ ایسا شخص رسول کریم صل السلام کے بعد ہی ہو سکتا ہے کیونکہ آپ ہی اسلام نام مذہب دنیا کی طرف لائے تھے۔غرض يُدعى إلى الْإِسْلَام کی شرط ظاہر کر رہی ہے کہ یہ شخص رسول کریم صلی یا اپیرانم کے بعد آئے گا اور اس وقت کے مسلمان اسے کہیں گے کہ میاں تو کافر کیوں بنتا ہے اپنا دعویٰ چھوڑ اور اسلام سے منہ نہ موڑ۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر واقعہ میں یہ جھوٹا ہے اور تم سچے ہو یہ کافر ہے اور تم مسلم اور تم اس کو اسلام کی طرف بلاتے ہو اور یہ کفر کی طرف جاتا ہے اور خدا پر جھوٹ باندھتا ہے تو اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے اس کو تو ہلاک ہونا چاہئے کیونکہ خدا تو ظالموں کو بھی ہدایت نہیں کرتا۔اور یہ اظلم ہے پس چونکہ یہ ہلاک نہیں ہوتا بلکہ ہر میدان میں ہدایت پاتا ہے اس لئے یہ جھوٹا کیونکر ہو سکتا ہے اور کیونکر ممکن ہے کہ تم اسلام پر ہو کر پھر ذلیل ہوتے ہو۔غرض اس آیت میں دشمنان احمد رسول پر ایک زبر دست حجت قائم کی گئی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللہ کی آیت پر زور بھی بہت دیا کرتے تھے۔بعض لوگ اس جگہ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ يُدعى إِلَى الْإِسْلَامِ رسول کی نسبت نہیں بلکہ اس کے دشمنوں کی نسبت ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلا یا جاتا ہے۔پس اس