انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 193

انوار خلافت — Page 41

۴۱ کا ترقی پانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جھوٹا نہیں جیسا کہ تم لوگ بیان کرتے ہو۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اس احمد رسول کی ایسی تعیین کر دی ہے کہ ایک منصف مزاج کو اس بات کے ماننے میں کوئی شک ہی نہیں ہو سکتا کہ یہ احمد رسول کریم صلی شی ایام کے بعد آنے والا ہے اور نہ آپ خود وہ رسول ہیں نہ آپ سے پہلے کوئی اس نام کا رسول گذرا ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی شرط لگا دی ہے جو نہ آنحضرت صالی یہ تم میں پوری ہوتی ہے نہ آپ سے پہلے کسی اور نبی میں پوری ہو سکتی ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور یہ شرط کہ حالانکہ اسلام کی طرف اسے بلایا جاتا ہے ایک ایسی شرط ہے جو رسول کریم صلی ا یہ ہم میں نہیں پائی جاتی۔کیونکہ اسلام کے معنی قرآن کریم سے دو معلوم ہوتے ہیں ایک تو ہر ایک سچے دین کا نام جب تک کہ وہ اپنی اصل حالت پر قائم ہو صفاتی طور پر اسلام رکھا گیا ہے چنانچہ پہلے تمام نبیوں کو بھی جو آنحضرت صلی شما پیام سے پہلے گزرے ہیں مسلم کہا گیا ہے۔دوسرے اسلام اس دین کا نام رکھا گیا ہے جو آنحضرت سی پلم پر نازل ہوا۔پس حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے“ کے جملہ کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ وہ اس وقت کے حقیقی اور بچے مذہب کی طرف بلایا جاتا ہے یا یہ کہ اسلام نامی دین کی طرف بلایا جاتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں رسول کریم صلی اینم پر چسپاں نہیں ہوتیں کیونکہ آپ کے وقت میں سچا دین تو کوئی تھا ہی نہیں سوائے اس دین کے جس پر آپ چل رہے تھے اور کفار کے نزدیک سچے دین کا نام اسلام تھا نہیں کہ ان پر حجت قائم کرنے کے لئے یہ کہا جاتا کہ حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔باقی رہا یہ کہ کسی دین کا نام اسلام ہو۔سو یہ بات سوائے اس دین کے جو رسول کریم صلی یتیم لائے اور کسی دین میں نہیں پائی جاتی اور رسول کریم کا لایا ہوا دین ہی وہ دین ہے جس کا نام اسلام رکھا گیا