انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 193

انوار خلافت — Page 40

اس جگہ شاید کوئی شخص یہ دلیل بھی دے کہ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَلَمَّا جَاءَهُمُ بِالْبَيِّنَتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ ـ جب وہ رسول ان کے پاس دلائل کے ساتھ آگیا تو لوگوں نے کہا کہ یہ تو کھلا کھلا جادو ہے۔پس یہ کوئی ایسا رسول ہے جو اس آیت کے نزول سے پہلے آچکا تھا اور وہ آنحضرت صلی ا ستم ہی ہیں لیکن ایسا اعتراض وہی شخص کرے گا جو قرآن کریم کی طرز کلام سے ناواقف ہو کیونکہ قرآن کریم میں بیسیوں جگہ پر آئندہ کی بات کو ماضی کے پیرایہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔حتی کہ بعض جگہ دوزخیوں اور جنتیوں کے اقوال کو ماضی کے صیغوں میں ادا کیا گیا ہے۔پس جبکہ دوسرے دلائل سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ یہ رسول کسی آئندہ زمانہ میں آنے والا تھا تو صرف ماضی کے صیغوں میں اس عبارت کا ادا ہونا اس بات کا ہر گز ثبوت نہیں کہ وہ رسول ضرور اس آیت کے نزول سے پہلے آچکا تھا۔تیسری دلیل احمد کی تعیین پر اس آیت میں یہ بیان کرنے کے بعد کہ جب وہ رسول آئے گا تو لوگ اسے جادوگر یا جھوٹا یا رتال یا فریبی کہیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى الله الكَذِبَ وَهُوَ يُدعَى إِلَى الْإِسْلَامِ وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ (الصف: ۸) یعنی اور اس سے زیادہ اور کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے درآنحالیکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر افتراء کرے وہ تو سب سے زیادہ سزا کا مستحق ہے پھر اگر یہ شخص جھوٹا ہے جیسا کہ تم بیان کرتے ہو تو اسے ہلاک ہونا چاہئے نہ کہ کامیاب۔اللہ تعالیٰ تو ظالموں کو بھی ہدایت نہیں کرتا تو جو شخص خدا تعالیٰ پر افتراء کر کے ظالموں سے بھی ظالم تر بن چکا ہے اس کو وہ کب ہدایت دے سکتا ہے۔پس اس شخص