انوار خلافت — Page 32
۳۲ میم پر جزم ہے زیر نہیں ہے۔اور اگر اردو یا پنجابی ترکیب سمجھوتو احمد کا غلام “ یا ” احمد داغلام ہونا چاہئے تھا مگر اس طرح بھی نہیں۔پھر یہ کون سی زبان کا نام ہے جو حضرت صاحب کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔پس سچی بات یہی ہے کہ آپ کا نام احمد تھا اور غلام صرف خاندانی علامت کے طور پر شروع میں بڑھا دیا گیا تھا۔دوسرا ثبوت دوسرا ثبوت آپ کا نام احمد ہونے کا یہ ہے کہ آپ نے اپنے سب لڑکوں کے ناموں کے ساتھ احمد لگایا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اپنا نام احمد ہی جانتے تھے تبھی تو علامت کے طور پر سب بیٹیوں کے نام کے بعد احمد لگایا۔ورنہ جبکہ احمد لگانے سے معنوں کے لحاظ سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا تھا۔تو پھر احمد بڑھانے کا کیا فائدہ تھا؟ ظاہر ہے کہ احمد حضرت صاحب کا نام تھا اور وہ خاندانی علامت کے طور پر ہر ایک لڑکے کے نام کے ساتھ بڑھا دیا گیا۔تیسرا ثبوت تیسرا ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احمد ہونے کے متعلق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے جس نام پر بیعت لیتے رہے ہیں وہ احمد ہی ہے کہ آپ نے کبھی غلام احمد کہہ کر بیعت نہیں لی۔چنانچہ آپ میں سے سینکڑوں آدمی ایسے ہوں گے جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور وہ شہادت دے سکتے ہیں کہ آپ یہی کہہ کر بیعت لیا کرتے تھے کہ آج میں احمد کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتا ہوں۔پس آپ لوگ بتائیں کہ آپ نے احمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی یا غلام احمد کے ہاتھ پر ( چاروں طرف سے بڑے زور کے ساتھ آوازیں آئیں کہ ہم نے احمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ) اگر آپ کا نام غلام احمد ہوتا۔تو آپ بیعت لیتے وقت یہ فرماتے کہ کہو آج میں غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔پس ثابت ہے کہ آپ اپنا نام احمد ہی قرار دیتے تھے۔